انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 616 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 616

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۶ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر کرنا پڑے گا۔یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یا تو مدینہ میں ہی اور یامد بینہ سے نکلتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو الہا ما بتا دیا تھا کہ جنگ پیش آنے والی ہے مگر صحابہ کو اس کے متعلق کوئی علم نہ تھا۔غرض جب تاریخ کہتی ہے کہ صحابہ کو جنگ کے متعلق کوئی علم ہی نہ تھا ، احادیث کہتی ہیں کہ صحابہ کو جنگ کا کوئی علم نہ تھا تو اس آیت میں کرِهُونَ کا کیا مطلب ہوا۔عیسائی مؤرخین کہتے ہیں کہ صحابہ مدینہ سے اس لئے نکلے تھے کہ وہ قافلہ کو لوٹیں گے لیکن سوال یہ ہے کہ جب وہ قافلہ کو لوٹنے کے خیال سے نکلے تھے تو ان کو خوشی ہونی چاہئے تھی نہ کہ رنج اور اس آیت میں كَرِهُونَ نہیں ہونا چاہئے تھا بلکہ فرِهُونَ ہونا چاہئے تھا کرِهُونَ کا لفظ بتاتا ہے کہ عیسائی مؤرخین کا یہ خیال کہ صحابہ نَعُوذُ بِاللہ اس لئے گئے تھے کہ قافلہ کولوٹیں گے بالکل غلط ثابت ہوتا ہے۔اب ہم نے یہ دیکھنا ہے کہ یہاں جو کسرِ ھوں کا لفظ اللہ تعالیٰ نے استعمال فرمایا ہے اس کا کیا مطلب ہے اور اس کی ضمیر کس طرف جاتی ہے؟ یہ کہنا بالکل غلط اور خلاف واقعہ بات ہے کہ صحابہؓ لڑائی سے گھبراتے تھے اور اس کو نا پسند کرتے تھے کیونکہ اُس وقت لڑائی کا تو کوئی سوال ہی نہ تھا وہ تو قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلے تھے کیونکہ قافلہ والے ہمیشہ مدینہ کے قریب پہنچ کر بہت بڑا جشن منایا کرتے اور قبائل کے اندر اشتعال پھیلاتے تھے اور کہتے تھے مدینہ والے ہمارے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتے۔پس یہاں گڑھا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا۔پھر اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُجَادِلُونَكَ فِي الحَقِّ بَعْدَ مَا تَبَيَّنَ كَأَنَّمَا يُسَاقُوْنَ إِلَى الْمَوْتِ وهُمْ يَنْظُرُون کہ وہ حق کے بارے میں جبکہ حق کھل چکا تھا اس طرح جھگڑتے اور بحث کرتے تھے کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں اور موت اُن کو سامنے نظر آ رہی تھی حالانکہ تاریخ سے جو کچھ پتہ چلتا ہے وہ یہ ہے کہ نہ صحابہ نے کبھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مجادلہ کیا اور نہ وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے تھے بلکہ وہ تو ایک قافلہ کی روک تھام کے لئے گئے تھے۔یہ ساری مشکلات ایسی ہیں جو اس آیت کے معنی کرنے میں اُلجھن پیدا کر دیتی ہیں۔مفسرین کو اس آیت کے معنی کرتے وقت بھی یہ مشکلات پیش آئیں اور ان کے دل میں اس آیت پر سوالات بھی پیدا ہوئے مگر انہوں نے اس مشکل کا حل با وجود کوشش کے کوئی نہ نکالا۔ابن حیان نے اس پر بڑا غور کیا ہے وہ نیک آدمی تھے اور ان کی تفسیر رطب و یابس سے پاک