انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 615

انوارالعلوم جلد ۱۸ ܬܙܪ ایک آیت کی پر معارف تفسیر مقام پر کھڑا کیا ، جس جگہ بھی زور کا رن پڑتا میں دوڑتے ہوئے وہاں پہنچ جاتا اور میری ہمیشہ یہ تمنا رہی کہ میں لڑتے لڑتے اللہ تعالیٰ کے راستے میں شہید ہو جاؤں مگر نہ معلوم میری کون سی شامت اعمال تھی کہ جس کے نتیجہ میں میں شہادت سے محروم رہا۔میرے جسم پر ایک انچ جگہ بھی ایسی نہیں جہاں تلواروں کے نشان نہ ہوں مگر باوجود اس کے کہ میں ایسی بے جگری سے لڑا اور باوجود اس کے کہ میری خواہش تھی کہ میں شہید ہو جاؤں آج یہ حالت ہے کہ بجائے میدانِ جنگ کے میں بستر پر پڑا جان دے رہا ہوں اور یہی چیز ہے جو مجھے رلا رہی ہے شان واقعات کو دیکھتے ہوئے کیا کوئی شخص یہ خیال بھی کر سکتا ہے کہ صحابہ موت سے ڈرتے تھے۔پھر یہ سوال کہ بدر کی جنگ کے وقت صحابہ حق کے کھل جانے پر آپ کے ساتھ بحث کرتے تھے اور وہ یوں سمجھتے تھے کہ گویا وہ موت کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں اور موت ان کو سامنے نظر آ رہی ہے ایک ایسی بات ہے جو صحابہ کی طرف قطعاً منسوب نہیں ہو سکتی۔بدر کی جنگ کے متعلق تو متواتر حدیثوں سے یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے اور تمام حدیثیں اس پر متفق ہیں کہ صحابہ جب مدینہ سے نکلے تو ان کو یہ خیال ہی نہ تھا کہ کوئی جنگ پیش آنے والی ہے وہ تو اس قافلہ کی روک تھام کے لئے نکلے تھے جو ابو سفیان کی سرداری میں شام کی طرف سے واپس مکہ آ رہا تھا اور اس قسم کے قافلوں کی روک تھام اس لئے ضروری تھی کہ یہ قافلے مسلح ہوتے تھے اور مدینہ سے بالکل قریب ہو کر گزرتے تھے اور وہ مسلمانوں کے خلاف قبائل عرب میں سخت اشتعال انگیزی کرتے اور اردگرد کے علاقہ کو مرعوب کرتے تھے۔اس دفعہ ابوسفیان چونکہ ایک بڑے قافلہ کے ساتھ گیا تھا اور بہت بڑی تجارت کر کے کافی نفع حاصل کر کے واپس آرہا تھا اس کے متعلق خبریں پہنچ رہی تھیں کہ وہ کوئی شرارت کرے گا اس لئے صحابہ جنگ کے خیال سے نہیں بلکہ اس قافلہ کی شرارتوں کی روک تھام کے لئے مدینہ سے نکلے تھے اور پھر سارے صحابہ مدینہ سے نکلے بھی نہ تھے بلکہ وہی تعداد جس کو بعد میں لشکر قریش کا مقابلہ کرنا پڑا نکلی تھی اور باقی صحابہ مدینہ میں ہی رہ گئے تھے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ قافلہ کی روک تھام کے لئے اسی قدر تعداد کافی ہے۔تمام تاریخیں اس بات پر متفق ہیں کہ صحابہ جنگ کے خیال سے نہیں نکلے تھے بلکہ جنگ کی خبر انہیں اس وقت ہوئی جب رسول کریم ﷺ نے ان کو بتایا کہ ہمیں قافلہ کا نہیں بلکہ لشکر کا مقابلہ