انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 614 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 614

انوار العلوم جلد ۱۸ ۶۱۴ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر اور اس کے سامنے پہنچا تو مجھے خیال آیا کہ میں نے زرہ پہنی ہوئی ہے یہ خیال آتے ہی میں نے اپنے نفس کو ملامت کی کہ تو نے زرہ پہن رکھی ہے تو خدا تعالیٰ کے سامنے کیا جواب دے گا جب خدا تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا کہ ضرار کیا تم موت سے اتنے ڈرتے تھے کہ تم نے زرہ پہن لی تھی تو اُس وقت میں کیا جواب دوں گا اس لئے میں وہاں سے بھا گا کہ جا کر زرہ اُتار آؤں چنانچہ اب میں زرہ اُتار کر مقابلہ کے لئے جا رہا ہوں تا کہ اگر میں مارا جاؤں تو خدا تعالیٰ کو کہہ سکوں کہ مجھے آپ سے ملنے کا اس قدر شوق تھا کہ میں نے جنگ میں مقابلہ کے وقت زرہ بھی اُتار دی تھی۔اسی طرح حضرت خالد بن ولید کے متعلق ذکر آتا ہے کہ جب وہ فوت ہونے لگے تو لوگوں نے دیکھا کہ وہ زار زار رور ہے تھے۔کسی نے ان سے کہا خالد ! یہ آپ کے لئے رونے کا کونسا موقع ہے؟ آپ نے اسلام کی بیش بہا خدمات سرانجام دی ہیں اور قابل قدر قربانیاں کی ہیں اس لئے یہ موقع آپ کے رونے کا نہیں بلکہ اس وقت تو آپ خدا کے پاس جا رہے ہیں آپ کو خوش ہونا چاہئے کہ آپ خدا تعالیٰ سے انعامات پائیں گے۔حضرت خالد نے یہ سُن کر جواب دیا میں اس لئے نہیں رورہا کہ میں اس دنیا کو چھوڑنے لگا ہوں یا موت سے ڈر رہا ہوں بلکہ میرے رونے کی اور ہی وجہ ہے ، ذرا میری دائیں ٹانگ سے پاجامہ اُٹھا کر دیکھو کیا کوئی جگہ ایسی نظر آتی ہے جہاں تلواروں کے نشان نہ ہوں، اس شخص نے پاجامہ اُٹھا کر دیکھا اور کہا آپ کی ساری ٹانگ پر زخموں کے نشان ہیں ، خالد نے کہا اب میری بائیں ٹانگ بھی دیکھو کہ کیا کوئی جگہ ایسی ہے جہاں تلوار کے نشان نہ ہوں۔اس نے پاجامہ اُٹھایا اور دیکھ کر کہا واقعی اس ٹانگ پر بھی کوئی جگہ زخموں سے خالی نہیں ہے۔خالد نے کہا اچھا اب تم میری پیٹھ پر سے کپڑا اُٹھا کر دیکھو کہ کیا کوئی جگہ زخموں سے خالی نظر آتی ہے؟ اس نے پیٹھ پر سے کپڑا ہٹایا اور دیکھ کر کہا نہیں کوئی جگہ خالی نہیں۔خالد نے کہا اب میری چھاتی پر سے کپڑا اُٹھا کر دیکھو کہ کیا کوئی جگہ زخموں سے خالی ہے؟ اس نے کپڑا ہٹایا اور دیکھ کر کہا نہیں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں تلوار کے نشان نہ ہوں۔اس پر خالد اور بھی زیادہ زور سے رونے لگ گئے اور پھر انہوں نے اسی حالت میں روتے ہوئے کہا کہ میں نے شہادت کے شوق میں اپنے آپ کو اسلامی جنگوں میں ہر خطرناک