انوارالعلوم (جلد 18) — Page 613
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۶۱۳ ایک آیت کی پُر معارف تفسیر ان کے منہ سے بے ساختہ نکلا فُرتُ وَاللهِ یعنی خدا کی قسم ! میں تو اپنی مراد کو پہنچ گیا ہوں۔سے واقعات بتاتے ہیں کہ صحابہ کے لئے موت بجائے رنج کے خوشی کا موجب ہوتی تھی۔اسی طرح ایک اور صحابی کا واقعہ تاریخوں میں آتا ہے ان کا نام ضرار تھا رسول کریم ہے کی وفات کے بعد جو جنگیں ہوئیں ان میں سے ایک جنگ میں یہ صحابی شریک ہوئے۔عیسائیوں کے ساتھ مقابلہ تھا ایک عیسائی جرنیل جو بڑا بہادر اور جنگجو مشہور تھا اس نے مبارز طلبی میں مسلمانوں کے دو آدمی مار دیئے تھے۔اُس وقت لڑائی میں یہ رواج تھا کہ فریقین کے بہادر فرداً فرداً نکلتے تھے اور مقابلہ کرتے تھے اس مقابلہ کو مبارز طلبی کہا جاتا ہے یعنی ایک فریق کا کوئی آدمی میدان میں آجاتا تھا اور وہ دوسرے فریق کے کسی نامی بہادر کو چیلنج دیتا تھا ان دونوں میں سے جو شخص جیت جاتا تھا اس کی قوم خوشی کے نعرے لگاتی تھی۔جب عیسائی جرنیل کے ہاتھوں مبارزطلبی میں دو آدمی شہید ہو چکے تو حضرت ضرار اس کے مقابلہ کے لئے نکلے۔یہ چوٹی کے جرنیلوں میں سے تھے اور بڑے دلیر اور بہادر تھے جب یہ مقابلہ کے لئے نکلے تو مسلمانوں نے خیال کیا کہ اب یہ عیسائی جرنیل سے بدلہ لے لیں گے اور عیسائی جرنیل کا جو رعب قائم ہو چکا ہے وہ جا تا رہے گا۔مگر جب ضرار اس عیسائی کے سامنے پہنچے تو ابھی مقابلہ شروع نہیں ہوا تھا کہ بھاگ کر اپنے خیمے میں آگئے وہ چونکہ مسلمانوں کے چوٹی کے جرنیل تھے اور بڑے بہادر اور آزمودہ کار تھے ان کے اس طرح بھاگنے سے مسلمانوں کو بڑی ذلت محسوس ہوئی اور وہ حیران و ششدر رہ گئے کہ اتنا بڑا بہا در بغیر مقابلہ کے بھاگ آیا یہ دیکھ کر مسلمانوں کے کمانڈر نے ایک شخص کود وڑایا کہ جا کر ان سے پوچھے کہ ان کے بھاگنے کی کیا وجہ ہے؟ وہ شخص جب خیمہ کے پاس پہنچا تو حضرت ضرار خیمہ سے نکل رہے تھے اس شخص نے جاتے ہی ان سے کہا یہ آپ نے کیا کیا کہ اس طرح بغیر لڑائی کے بھاگ آئے تمام اسلامی لشکر پر سکتہ عالم طاری ہے اور آپ کے اس طرح بھاگ نکلنے نے مسلمانوں کو سخت بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔یہ سن کر حضرت ضرارا مسکرائے اور انہوں نے کہا شاید تم لوگوں نے یہ سمجھا ہوگا کہ میں موت سے ڈر کر بھاگا ہوں خدا کی قسم! ہر گز نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ یہ عیسائی جرنیل جو بڑا جری اور بہادر مشہور ہے اس نے ہمارے دو آدمی مار دیئے ہیں اس کے بعد میں اس کے مقابلہ کے لئے نکلا۔