انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 577

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۷۷ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔۔نا انصافی آخر رنگ لائے گی مگر افسوس کہ ہمارے توجہ دلانے ، ہمارے انتباہ اور ہمارے ان کو آگاہ کرنے کا نتیجہ کبھی کچھ نہ نکلا۔ہند و سختی سے اپنے اس عمل پر قائم رہے انہوں نے اکثریت کے گھمنڈ میں مسلمانوں کے حقوق کا گلا گھونٹا ، انہوں نے حکومت کے غرور میں اقلیت کی گردنوں پر چھری چلائی اور انہوں نے تعصب اور ہندوانہ ذہنیت سے کام لیتے ہوئے ہمیشہ مسلمانوں کے جذبات کا خون کیا اور ہندو لیڈروں کو بار بار توجہ دلانے کے باوجود نتیجہ ہمیشہ صفر ہی رہا۔ایک مسلمان جب کسی ملازمت کے لئے درخواست دیتا تو چاہے وہ کتنا ہی لائق کیوں نہ ہوتا اُس کی درخواست پر اس لئے غور نہ کیا جاتا کہ وہ مسلمان ہے اور اس کے مقابلہ میں ہندو چاہے کتنا ہی نالائق ہوتا اس کو ملازمت میں لے لیا جاتا۔اسی طرح گورنمنٹ کے تمام ٹھیکے مسلمانوں کی لیاقت قابلیت اور اہلیت کو نظر انداز کرتے ہوئے ہندوؤں کو دے دیئے جاتے ، تجارتی کاموں میں جہاں حکومت کا دخل ہوتا ہندوؤں کو ترجیح دی جاتی سوائے قادیان کے کہ یہاں بھی ہم نے کافی کوشش کر کے اپنا یہ حق حاصل کیا ہے باقی تمام جگہوں میں مسلمانوں کے حقوق کوملحوظ نہیں رکھا گیا۔یہی وجہ تھی کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوؤں کے خلاف ان کی فرقہ وارانہ ذہنیت کی وجہ سے نفرت پیدا ہوتی رہی اور آخر یہ حالت پہنچ گئی جو آج سب کی آنکھوں کے سامنے ہے یہ صورتِ حال کس نے پیدا کی؟ جس نے یہ صورت حال پیدا کی وہی موجودہ حالات کا ذمہ دار بھی ہے یہ سب کچھ ہندوؤں کے اپنے ہی ہاتھوں کا کیا ہوا ہے اور یہ فسادات کا تناور درخت وہی ہے جس کا بیج ہندوؤں نے بویا تھا اور اسے آج تک پانی دیتے رہے اور آج جبکہ اس درخت کی شاخیں سارے ہندوستان میں پھیل چکی ہیں ہندوؤں نے شور مچانا شروع کر دیا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ ہندوؤں کو اُس وقت اس بات کا کیوں خیال نہ آیا کہ ہم مسلمانوں کے حقوق تلف کر رہے ہیں اور ہر محکمہ میں اور ہر شعبہ میں ان کے ساتھ بے انصافی کر رہے ہیں۔مجھے ۲۵ سال شور مچاتے اور ہندوؤں کو توجہ دلاتے ہو گئے ہیں کہ تمہارا یہ طریق آخر رنگ لائے بغیر نہ رہے گا لیکن افسوس کہ میری آواز پر کسی نے کان نہ دھرا اور اپنی من مانی کرتے رہے یہاں تک کہ جب ہمارا احرار سے جھگڑا تھا تو ہندوؤں نے احرار کی پیٹھ ٹھونکی اور حتی الوسع ان کی امداد کرتے رہے۔ان سے کوئی پوچھے کہ جھگڑا تو ہمارے اور احرار کے درمیان مذہبی مسائل