انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 576 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 576

انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۷۶ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مدد کریں۔کہ ہو تو وہ اس کے رشتہ داروں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔اگر یہ مجسٹریٹ اسی مدعی کے حق میں فیصلہ کر دے تو اس مدعی کے پاس روپیہ آ جاتا ہے اور پھر وہ اس مجسٹریٹ کے رشتہ داروں کو دق کر سکتا ہے تو کیا ایک دیانتدار مجسٹریٹ اس ڈر سے کہ کل کو یہ روپیہ ہمارے خلاف استعمال کرے گا اس حقدار مدعی کے خلاف فیصلہ کر دے گا ؟ اگر وہ ایسا کرے گا تو یہ اس کی صریح نا انصافی ہوگی اور اگر وہ حق پر قائم رہتے ہوئے شہادات کو دیکھتے ہوئے اور مواد مسل کی روشنی میں مدعی کے حق میں فیصلہ دیتا ہے تو کیا کوئی دیانتدار دنیا میں ایسا بھی ہو سکتا ہے جو اس کے فیصلہ پر یہ کہے کہ اس نے فیصلہ ٹھیک نہیں کیا اور اپنے اور اپنے رشتہ داروں پر ظلم کیا ہے۔کوئی شریف اور دیانتدار مجسٹریٹ یہ نہیں کر سکتا کہ وہ کسی مقدمہ کا حصر اپنے آئندہ فوائد پر رکھے۔اور کوئی دیانتدار مجسٹریٹ ایسا نہیں ہو سکتا جو مواد مسل کو نظر انداز کرتے ہوئے آنکھیں بند کر کے فیصلہ دیدے بلکہ ایمانداری اور دیانتداری متقاضی ہے اس بات کی کہ وہ حق اور انصاف اور غیر جنبہ داری سے کام لے کر مقدمہ کا فیصلہ سنائے۔وہ یہ نہ دیکھے کہ جس شخص کے حق میں میں ڈگری دے رہا ہوں یہ طاقت پکڑ کر کل کو میرے ہی خاندان کے خلاف اپنی طاقت استعمال کرے گا۔پس انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ وہ عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر نظر انداز کر دے اس بات کو کہ میں کس کے خلاف اور کس کے حق میں فیصلہ دے رہا ہوں ، وہ نظر انداز کر دے اس بات کو کہ جس روپیہ کے متعلق میں ڈگری دے رہا ہوں وہ روپیہ کل کو کہاں خرچ ہو گا اور وہ بھول جائے اس بات کو کہ فریقین مقدمہ کون ہیں کیونکہ انصاف اور ایمانداری اسی کا نام ہے۔پس قطع نظر اس کے کہ مسلم لیگ والے پاکستان بننے کے بعد ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے وہ ہمارے ساتھ وہی کا بل والا سلوک کریں گے یا اس سے بھی بدتر معاملہ کریں گے اس وقت سوال یہ ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے جھگڑے میں حق پر کون ہے اور ناحق پر کون؟ آخر یہ بات آج کی تو ہے نہیں یہ تو ایک لمبا اور پرانا جھگڑا ہے جو بیسیوں سال سے ان کے درمیان چلا آتا ہے ہم نے بار بار ہندوؤں کو توجہ دلائی کہ وہ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کر رہے ہیں یہ امر ٹھیک نہیں ہے ، ہم نے بار بار ہندوؤں کو متنبہ کیا کہ مسلمانوں کے حقوق کو اس طرح نظر انداز کر دینا بعید از انصاف ہے اور ہم نے بار بار ہندو لیڈروں کو آگاہ کیا کہ یہ حق تلفی اور یہ