انوارالعلوم (جلد 18) — Page 578
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۷۸ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم قوم کی مددکر ہیں۔کے متعلق تھا تمہیں اس معاملہ میں کسی فریق کی طرفداری کی کیا ضرورت تھی اور تمہیں ختم نبوت یا صلى الله وفات مسیح کے مسائل کے ساتھ کیا تعلق تھا ؟ کیا تم محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد نبوت کو بند مانتے تھے کہ ہمارے اجرائے نبوت کے عقیدہ پر تم برہم ہوئے تھے؟ کیا تم حیات مسیح کے قائل تھے کہ ہماری طرف سے وفات مسیح کا مسئلہ پیش ہونے پر تم چراغ پا ہو گئے تھے؟ ہندوؤں کا ان مسائل کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہ تھا احرار کی طرف سے ہندو وکلاء مفت پیش ہوتے رہے۔میں نے اس بارہ میں پنڈت نہرو کے پاس اپنا آدمی بھیجا کہ آپ لوگوں کی احرار کے ساتھ ہمدردی کس بناء پر ہے اور یہ طرفداری کیوں کی جارہی ہے۔انہوں نے ہنس کر کہا سیاسیات میں ایسا کرنا ہی پڑتا ہے۔اب جن لوگوں کی ذہنیت اس قسم کی ہو اس سے بھلا کیا امید کی جاسکتی ہے۔یہ جو کچھ آجکل ہو رہا ہے یہ سب گاندھی جی ، پنڈت نہرو اور مسٹر پٹیل کے ہاتھوں سے رکھی ہوئی بنیادوں پر ہو رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی انگریزوں کا بھی اس میں ہاتھ تھا ان کو بھی بار بار اس امر کے متعلق توجہ دلائی گئی کہ ہندوستان کے کروڑوں کروڑ مسلمانوں کے حقوق کو تلف کیا جا رہا ہے جو ٹھیک نہیں ہے لیکن انہوں نے بھی اس طرف توجہ نہیں کی۔یہ سب کچھ ہوتا رہا اور باوجود یہ جاننے کے ہوتا رہا کہ مسلمانوں کے حقوق تلف ہو رہے ہیں اور باوجود اس علم کے کہ مسلمانوں سے نا انصافی ہو رہی ہے مسلمان ایک مدت تک ان باتوں کو برداشت کرتے رہے مگر جب یہ پانی سر سے گزرنے لگا تو وہ اُٹھے اور انہوں نے اپنے لمبے اور تلخ تجربہ کے بعد جب یہ سمجھ لیا کہ ہندوؤں کے ساتھ رہتے ہوئے ان کے حقوق خطرے میں ہیں تو انہوں نے اپنے حقوق کی حفاظت اور آرام اور چین کے ساتھ زندگی بسر کرنے کے لئے الگ علاقہ کا مطالبہ پیش کر دیا۔کیا وہ یہ مطالبہ نہ کرتے اور ہندوؤں کی ابدی غلامی میں رہنے کے لئے تیار ہو جاتے ؟ کیا وہ اتنی ٹھوکروں کے باوجود بھی نہ جاگتے ؟ پھر میں پوچھتا ہوں کہ کیا مسلمان اتنے طویل اور تلخ تجربات کے بعد ہندوؤں پر اعتبار کر سکتے تھے؟ ایک دو باتیں ہوتیں تو نظر انداز کی جاسکتی تھیں، ایک دو واقعات ہوتے تو بھلائے جا سکتے تھے، ایک دو چوٹیں ہوتیں تو اُن کو نظر انداز کیا جا سکتا تھا، ایک آدھ صوبہ میں مسلمانوں کو کوئی نقصان پہنچا ہوتا تو اُس کو بھی بھلایا جا سکتا تھا لیکن متواتر سو سال سے ہر گاؤں میں ، ہر شہر میں ، ہر ضلع میں اور ہر صوبہ میں اور ہر محکمہ میں ، ہر شعبہ میں