انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 482

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۸۲ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی ہر دفعہ ایک ایک پیسہ لیتا جاتا اور چیزیں اُٹھا اُٹھا کر اندر رکھتا جاتا آخر جب تمام چیزیں رکھ چکا تو مجھے ایک اور مذاق سوجھا۔ہم سے گز بھر ایک کو نہ میں چھتری پڑی تھی میں نے بچپن کی شرارت میں جان کر اُسے کہا کہ وہ چھتری تو پکڑا دو ، اس پر فوراً اُس نے ہاتھ آگے کر دیا اور کہالا ؤ پونسہ ہم نے پیسہ اُس کے ہاتھ پر رکھ دیا اور وہ چھتری اُٹھا کر برآمدہ میں لے گیا۔یوں تو ہم خود بھی چھتری اُٹھا سکتے تھے مگر اس وقت ہم نے مذاقاً اسے چھتری اُٹھانے کو بھی کہہ دیا جس پر اس نے نہایت بے تکلفی سے کہا کہ لاؤ پونسہ اور جب ہم نے پیسہ دیا تو تب اس نے چھتری کو ہاتھ لگایا۔تمہارا معاملہ بھی خدا تعالیٰ سے اسی قسم کا ہے اگر تم بھی ہر بات پر یہی کہتے رہو کہ لا پونسہ اور تم ایک کشمیری مزدور کی طرح لا پونسہ کہنے کے عادی بن جاؤ تو وہ بھی تمہیں مزدور ہی رکھے گا کیونکہ تم بات تو کشمیری مزدور والی کرتے ہو اور امید یہ رکھتے ہو کہ تم سے خدا تعالیٰ وہ سلوک کرے جو اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کے ساتھ کیا حالانکہ لا پونسہ کہنے والے سے تو مزدور کا ہی سلوک کیا جائے گا بادشاہ کا سلوک اسی سے کیا جاتا ہے، جو اپنی ہر چیز قربان کر دیتا ہے جو اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے راہ میں گائی طور پر فنا کر دیتا ہے اور اس سے کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرتا تب اس کا آقا کہتا ہے اس نے اپنے آپ کو میرے لئے فنا کر دیا ہے اب یہ مجھ سے جدا نہیں رہا تب جیسے بیٹا اپنے باپ کا وارث ہوتا ہے اللہ تعالیٰ بھی دنیا اس کے سپر د کر دیتا ہے۔یہ کام ہے جو تم نے کرنا ہے۔جب تک تم یہ کام نہیں کرتے ، جب تک تمہارے اندر ایسی خلش پیدا نہیں ہوتی جو رات اور دن تمہیں بے تاب رکھے اور تمہیں کسی پہلو پر بھی قرار نہ آنے دے اُس وقت تک تم اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے جو صحابہؓ نے حاصل کیا۔ابھی ہماری ترقی ہے ہی کیا تین چار ہزار آدمیوں کا سال بھر میں ہم میں شامل ہو جانا اور ہر سال دس ہیں لاکھ روپے کا آجانا سر دست ہماری ترقی صرف اسی حد تک ہے مگر کیا اتنے سے کام سے دنیا میں وہ روحانی تغیر پیدا کیا جا سکتا ہے جس تغیر کو پیدا کرنا اللہ تعالیٰ نے ہمارے سپرد کیا ہے۔یہ تغیر اُس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک لاکھوں لاکھ آدمی ہماری جماعت میں شامل نہیں ہوتے مگر سوال یہ ہے کہ آخر لاکھوں لاکھ آدمی کیوں ہماری جماعت میں شامل نہیں ہوتا اسی لئے کہ دنیا تمہاری طرف دیکھ کر کہتی ہے کہ ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں اور چونکہ دشمن اپنے مخالف کو