انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 483

۴۸۳ انوارالعلوم جلد ۱۸ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ہر بات میں نیچا بتانے کا عادی ہوتا ہے جب اسے تم میں اور ان میں کوئی فرق نظر نہیں آتا تو کچھ شریف الطبع لوگ تو یہ کہتے ہیں کہ ہم میں اور ان میں کوئی فرق نہیں اور کچھ لوگ جو غیر شریفانہ رنگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ کہتے ہیں یہ لوگ ہم سے بھی زیادہ گندے ہیں اور اس طرح دشمن برابری کو بھی نچلا درجہ دیتا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جو چیزیں تمہیں ملی ہیں وہ اُن کو نہیں ملیں۔اگر ان کے ہوتے ہوئے تم ان سے فائدہ نہیں اُٹھاتے تو یقینا تم ان سے نچلے درجہ پر ہو۔ایک شخص جس کے پاس ہزار روپیہ ہے وہ اگر خست سے روٹی کھاتا ہے اور ایک دوسرا شخص جسے صرف ایک وقت کی روٹی ملتی ہے وہ بغیر نخست کے اسے استعمال کرتا ہے تو وہ اگر یہ کہے کہ ہزار روپیہ رکھنے والا مجھ سے زیادہ ذلیل ہے تو وہ ایسا کہنے میں حق بجانب ہوگا کیونکہ اُس کا فاقہ مجبوری کی وجہ سے ہوگا اور اُس کا فاقہ خسانت اور دنایت کی وجہ سے ہوگا۔پس جب تک تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کر کے وہ نئی زندگی حاصل نہیں کرتے جو صحابہؓ نے حاصل کی اُس وقت تک ہم نہ ترقی کر سکتے ہیں اور نہ ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ ہم خدا کے خاص منعم علیہ گروہ میں شامل ہو جائیں گے۔خدا اس وقت دنیا میں ایک عظیم الشان روحانی انقلاب پیدا کرنا چاہتا ہے اور ایک بہت بڑا تغیر اس کے حضور مقدر ہے مگر وقت بہت تھوڑا رہ گیا ہے اور افسوس ہے کہ ہماری جماعت نے اس کا ایک حصہ سونے میں گزار دیا ہے۔ہمارے سلسلہ کو قائم ہوئے چھپن سال گزر چکے ہیں اور چھپن سال میں انسان بڑھاپے کی عمر کو پہنچ جاتا ہے بیشک بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے ستر کچھہتر سال کی عمر میں بھی مضبوط قوی ہوتے ہیں لیکن گورنمنٹ پچپن سال کی عمر پر اپنے ملازموں کو پنشن دے دیا کرتی ہے پس تم پر اب اتنی عمر گزرچکی ہے کہ جس عمر پر گورنمنٹ لوگوں کو پنشن دے دیا کرتی ہے مگر باوجود اس کے کہ تم پنشن کی عمر کو پہنچ چکے ہو تم نے ابھی پہلا گریڈ بھی حاصل نہیں کیا۔یہ کتنے افسوس کی بات ہے، یہ کتنے رنج کی بات ہے، یہ کتنے غم اور فکر کی بات ہے پس اپنے اندر تغیر پیدا کرو اور اپنے دماغوں میں ایک نیک تبدیلی رونما کرو۔جس طرح سان پر چاقو چڑھایا جاتا ہے اسی طرح جب تک خدا تعالیٰ کی خشیت کی سان پر تم اپنے دماغوں کو نہ چڑھاؤ گے، جب تک تم اپنی زندگی خالص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے بسر نہیں کرو گے اور جب تک تم مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ ہے کا کامل نمونہ نہیں بنو گے اُس وقت تک تم سے کسی کام کی امید