انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 481

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۴۸۱ عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہوسکتی رکھ دی۔بڑھے نے تھیلی اٹھائی اور کہا بادشاہ سلامت ! آپ تو کہتے تھے کہ تو اُس درخت کا پھل نہیں کھائے گا دیکھئے لوگ درخت لگاتے ہیں تو کہیں دیر کے بعد اس کا پھل کھانا نصیب ہوتا ہے لیکن میں درخت لگا ہی رہا ہوں کہ میں نے اس کا پھل کھا لیا۔بادشاہ نے یہ سن کر پھر زہ کہا اور خزانچی نے تین ہزار کی ایک اور تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔اس پر وہ بڑھا پھر بولا اور اُس نے کہا بادشاہ سلامت ! لوگ تو سال میں صرف ایک دفعہ پھل کھاتے ہیں لیکن میں نے تو ابھی لگاتے لگاتے اس کا دو دفعہ پھل کھا لیا ہے۔اس پر بادشاہ کے منہ سے پھر نکلا زہ اور خزانچی نے فوراً تین ہزار کی ایک تیسری تھیلی اس کے سامنے رکھ دی۔یہ دیکھ کر بادشاہ ہنس پڑا اور اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا چلو یہاں سے ورنہ یہ بڑھا ہمارا سارا خزانہ لوٹ لے گا۔بات یہ ہے کہ تم بیج لگا ؤ گے تو پھل کھاؤ گے مگر تم تو بیج لگانے میں آتے ہی نہیں۔تم میں سے بعض کی ذہنیتیں وہی ہیں جو لیبر یا لبرل پارٹیوں کی ہیں یعنی یہ کہ پہلے خدا ہمیں دے پھر ہم سے کام لے حالانکہ خدا اس قوم کو اپنے انعامات دیا کرتا ہے جو اپنے نفوس کو اس کی راہ میں قربان کر دیا کرتی ہے اور اس بات کی پرواہ نہیں کیا کرتی کہ اسے کیا ملا۔مجھے یاد ہے میں ایک دفعہ کشمیر گیا کشمیری ایک خاص فن میں مشہور ہیں جس کی میں اس وقت مذمت کر رہا ہوں یعنی یہ بات ان کی عادت میں داخل ہے کہ ان کا دستِ سوال ہمیشہ دراز رہتا ہے ، اُن دنوں موٹریں نہیں ہوتی تھیں کشمیر تک یکوں میں سفر کیا جا تا تھا۔ایک منزل پر ہم ٹھہرے تو بارش آگئی اور ہمیں اسباب کو اندر رکھنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔مولوی سید سرورشاہ صاحب بطور اتالیق ہمارے ہمراہ تھے اور میر محمد الحق صاحب، میاں بشیر احمد صاحب اور میں تینوں ان کی اتالیقی میں کشمیر کی سیر کے لئے گئے تھے۔یہ حضرت خلیفہ اول کی خلافت کے دوسرے سال کا واقعہ ہے۔جب بارش آئی تو ہم نے ایک کشمیری مزدور کو بلایا اور اُسے کہا سامان یہاں سے اُٹھا کر برآمدہ میں رکھ دو، وہ کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ ایک ایک چیز کا ایک ایک پیسہ لوں گا لیکن پہلے پیسہ لوں گا اور پھر کوئی چیز اُٹھاؤں گا۔بچپن کی عمر کے لحاظ سے اس وقت ہمیں مذاق سوجھا، ہم ایک پیسہ اُس کے ہاتھ پر رکھ دیتے اور وہ ایک چیز اُٹھا کر برآمدہ میں رکھ دیتا۔پھر واپس آتا اور ایک پیسہ لے کر دوسری چیز اُٹھاتا اور اُسے برآمدہ میں رکھ آتا اسی طرح