انوارالعلوم (جلد 18) — Page 444
انوار العلوم جلد ۱۸ マママ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے I فراہم کر بھی لی جائے تو اس سے پراپیگنڈا نہیں ہو سکتا اس کے لئے لاکھوں کی بلکہ کروڑوں کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں تو اتنے کی بھی امید نہیں چہ جائیکہ لاکھوں اور کروڑوں والی سکیم بنائی جائے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگ قربانی کرنا چاہتے ہیں تو عملی قربانی دکھانی چاہئے ۔ میرے نزدیک اگر ایک صوبہ میں سے پچاس ہزار روپیہ مل جائے تو دس صوبوں میں سے پانچ لاکھ روپیہ جمع کیا جا سکتا ہے بلکہ اصل بات تو یہ ہے کہ پچیس تیس لاکھ ہونا چاہئے تب جا کر کہیں اس روپے سے یورپ میں اور امریکہ وغیرہ ممالک میں پراپیگنڈا کیا جاسکتا ہے۔ اُنہوں نے کہا یہ تو سب خیالی باتیں ہیں اتنا کچھ کون کر سکتا ہے؟ میں نے کہا میرا تو یقین ہے کہ ایک ہی بڑے شہر سے جس میں پانچ لاکھ مسلمان بستے ہوں اگر ان لوگوں کے سامنے یہ حالات صحیح طور پر رکھے جائیں اور موجودہ دقتیں اور ضروریات ان کے ذہن نشین کرادی جائیں تو پانچ لاکھ روپیہ تو ایک شہر میں سے اکٹھا ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا ہمارے لئے تو اس قسم کا خیال کرنا بھی ناممکن ہے۔ میں نے کہا کہ اگر آپ لوگوں کو یقین نہیں آتا تو پنجاب میرے سپرد کر دیں۔ اس پر تو وہ راضی نہ ہوئے مگر میری تجویز پر غور کرنے کے لئے انہوں نے ایک کمیٹی بنا دی۔ سر ضیاء الدین صاحب ، نواب محمد یوسف صاحب، مولانا شوکت علی ، سر فیروز خان نون وغیرہ اس کمیٹی کے ممبر تھے ان کے سپرد یہ کام کیا گیا کہ چندہ کے متعلق مکمل طور پر کوئی سکیم تیار کریں۔ میں نے کہا بعد کی تحریکیں تو بعد ا میں دیکھی جائیں گی آپ لوگ خود جو کچھ دینا چاہتے ہیں وہ ابھی لکھوا دیں۔ میں نے سر فیروز خاں سے کہا آپ دو ہزار کا وعدہ کریں انہوں نے کہا کہ آپ اگر اتنا وعدہ کریں تو میں بھی کرتا ہوں ، اس پر میں چودہ نے بھی دو ہزار کا وعدہ کیا پھر دوسرے ممبران سے وعدے لا اسے وعدے لکھوانے کے بعد اس کمیٹی میں ہی تیرہ : ہزار کے وعدے ہو گئے ۔ میں نے کہا کہ یہ صرف دس آدمی ہیں جن سے وعدے لئے گئے ہیں اگر ہندوستان کے دس کروڑ آدمیوں سے چندہ جمع کیا جائے تو ایک بہت بڑی رقم فراہم ہوسکتی ہے اس کے متعلق میری تجویز یہ تھی کہ معین طور پر ہر صوبہ پچاس ہزار روپیہ دے مگر وہ لوگ اس تجویز پر متفق نہ ہوئے۔ میرے ذہن میں یہ نہ تھا کہ یہ لوگ کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے اور صرف کمیٹی مقرر کر دی گئی ہے۔ دوسرے دن مجھے ان ممبروں میں سے ایک ممبر کا فون آیا کہ دیکھئے وہ وعدہ دو ہزار کا دے نہ دیں۔ میں نے کہا نہ دینے کا کیا مطلب ہے جب وعدہ کیا ہے تو دینا تو ضرور ہوگا ۔ کہنے لگے اگر اس طرح