انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 445

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۵ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے دے دیا تو وہ روپیہ کھا جائیں گے۔میں نے کہا مجھے اس سے کیا اگر کھا جائیں گے تو وہ جانیں اور ان کا کام ، مجھے تو دینے سے غرض ہے خواہ وہ کھا جائیں یا پھینک دیں۔انہوں نے کہا کہ خطرہ ہے کہ اگر اس قدر رقم اکٹھی ان کے ہاتھ آگئی تو اس کا نتیجہ خاطر خواہ نہ ہوگا۔میں نے کہا میں نے تو آپ کو بھی چندہ لئے بغیر نہیں چھوڑنا۔انہوں نے کہا آپ زبر دستی کرتے ہیں موجودہ انتظام ٹھیک نہیں اگر وہ روپیہ کھا جائیں گے تو مفت میں بدنامی ہوگی۔میں نے کہا کہ چونکہ میں وعدہ کر چکا ہوں اس لئے میں تو وہ روپیہ ضرور دوں گا چنانچہ میں نے دو ہزار روپیہ دے دیا ، ایک اور صاحب نے بھی میرے کہنے پر پانچ سو روپیہ کا چیک دے دیا۔محمد شفیع صاحب داؤدی جو کمیٹی کے سیکرٹری تھے ایک سال بعد ان سے ملاقات ہوئی میں نے ان سے پوچھا کہ کل کتنی رقم اکٹھی ہوئی تھی ؟ کہنے لگے وہی دو ہزار روپیہ جو آپ نے دیا تھا اور پانچ سو جو آپ نے دلایا تھا وہی اڑھائی ہزار کی رقم ہے اس کے بعد تو کسی نے کچھ نہیں دیا تھا تو اس قسم کی حالت آجکل کے مسلمانوں کی ہے۔اسکیمیں بناتے ہیں، پروگرام مرتب کرتے ہیں لیکن اس پر عمل نہیں کرتے۔تعجب آتا ہے جب یہ لوگ کہتے ہیں کہ روپیہ نہیں ملتا حالا نکہ روپیہ سب کے پاس ہے مگر دیتے نہیں۔کوئی کسان اپنی زمین میں بیج ڈالتے وقت اس بات سے نہیں ڈرتا کہ پیج ضائع ہو جائے گا وہ خود بھوکا رہے گا ، اپنی بیوی کو فاقہ دے گا ، اپنے بچوں کو فاقہ دے گا مگر وہ اپنی زمین میں بیج ضرور ڈالے گا کیونکہ وہ جانتا ہے کہ مجھے سال بھر کی غذا اسی بیج کے بدلہ میں ملے گی اگر میں بیج نہیں ڈالوں گا تو غلہ کہاں سے پیدا ہو سکے گا۔پس کوئی کسان بیج ڈالتے وقت ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریگا وہ بڑے اطمینان سے بیج کو مٹی میں ملا کر واپس آ جائے گا اور چار مہینے یا چھ مہینے کے بعد جا کر اسی زمین میں سے اسی بیج میں سے پیدا شدہ فصل کاٹ کر سال بھر کے لئے اناج حاصل کر لے گا۔احمق اور پاگل لوگ تو قومی خرچ کرنے سے گریز کرتے ہیں مگر وہ جو عظمند ہیں جانتے ہیں کہ وہ خرچ جو قومی مفاد کے لئے کیا جائیگا وہ اس سے کئی گنا زیادہ ہو کر واپس ملے گا۔کانگرس کو دیکھ لو اس میں برلا جیسے لوگ موجود ہیں جو قومی کاموں کے لئے لاکھوں روپیہ بھی دے دیں تو انہیں بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ان لوگوں کی دولت کی بڑی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے قومی مفاد کی اہمیت کو سمجھ لیا ہے اور وہ اس حقیقت کو جانتے ہیں کہ قومی طور پر اگر کام کئے