انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 443

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۴۳ ہمارے ذمہ تمام دنیا کو فتح کرنے کا کام ہے لئے تیار ہو جاؤ تو لوگ فوراً اُسے بڑا لیڈر قرار دے دیں گے۔اس کے بعد اگر کوئی دوسرا شخص اُٹھے اور کہے کہ مخالف سے فوراً لڑائی شروع کر دو تو خواہ یہ کہنے کے بعد وہ خود گھر چلا جائے اور اس بات پر خود کوئی عمل نہ کرے وہ اس پہلے سے بھی بڑا لیڈر مانا جائے گا ، پھر اگر ایک تیسرا شخص اُٹھے اور کہنا شروع کر دے کہ مخالف سے صرف لڑنا ہی نہیں چاہئے بلکہ اسے مار مار کر شہر سے باہر نکال دینا چاہئے تو وہ اور بھی بڑا لیڈر بن جائے گا اور لوگ اس کے عمل کو نہ دیکھیں گے۔یہ ایک مصیبت کی بات ہے کیونکہ صرف دعوؤں سے کچھ نہیں بنتا جب تک ان دعوؤں کے ساتھ عملی پہلو نہ ہو۔آج کل مسلمانوں میں یہ مرض عام طور پر پایا جا تا ہے کہ جتنا بڑا کوئی دعوی کرے اتنا ہی اسے اچھا سمجھیں گے اور بڑا لیڈر ماننے لگ جائیں گے۔اب دیکھ لو ہماری جماعت کا سواں حصہ بھی غیر احمدی قربانی نہیں کرتے مگر پھر بھی ان کے نزدیک ہماری قربانی بالکل ذلیل اور حقیر سمجھی جاتی ہے صرف اس لئے کہ موجودہ زمانہ کے حالات کے پیش نظر ہم تلوار کے جہاد کے قائل نہیں اور وہ جہاد کے قائل ہیں ، ہم بہت کچھ قربانیاں کرتے ہوئے بھی اسلام کے دشمن کہلاتے ہیں اور وہ لوگ کچھ نہ کرتے ہوئے بھی اسلام کے دوست کہلاتے ہیں۔یہ مرض لوگوں میں پھیلا ہوا ہے اور اخلاق کی دنیا تباہ اور برباد ہو رہی ہے مگر ہمیں زیادہ سے زیادہ عمل پر زور دیتے چلے جانا چاہئے۔ہمیں چاہئے کہ ہم صرف وہی دعویٰ کریں جس کو پورا کر سکتے ہوں کیونکہ دعوئی بغیر عمل کے نتیجہ خیز نہیں ہوا کرتا۔جس شخص نے صرف دعویٰ کیا اور عمل نہ کیا اُس نے دھوکا کیا۔صرف کھڑے ہو کر کسی مجلس میں اگر کوئی شخص یہ کہہ دیتا ہے کہ میں فلاں کام کے لئے سو روپیہ دوں گا مگر دیتا کچھ نہیں تو وہ بے ایمانی کرتا ہے۔شملہ میں جب راؤنڈ ٹیبل کا نفرنس میں نمائندے بھجوانے کا سوال تھا میں بھی اُس وقت شملہ میں ہی تھا اُس وقت مسلم کا نفرنس میں اس پر بحث ہو رہی تھی کہ گیارہ ہزار روپیہ اس کام کے لئے کس طرح اکٹھا کیا جائے تا کہ اس وقت مسلمانوں کا نقطہ نگاہ دنیا پر ثابت کیا جائے۔ان کی بات سن کر میں حیران ہوا کہ سارے ہندوستان کے مسلمانوں سے گیارہ ہزار کی حقیر رقم اکٹھی کرنا چاہتے ہیں اور پھر اسے اتنا بڑا کام سمجھتے ہیں اور تجویز یہ پیش ہے کہ یہ کام کس طرح کیا جائے۔میں نے ان سے کہا کہ گیارہ ہزار روپیہ تو ایک چھوٹے قصبہ سے اکٹھا کیا جا سکتا ہے اور پھر سوال تو یہ ہے کہ اگر گیارہ ہزار کی رقم۔