انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 416

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۱۶ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے پر سفر کرتے تھے اور اب ریلیں ، کاریں اور ہوائی جہاز نکل آئے ہیں لیکن جہاں تک لڑائی جھگڑے اور فساد کا تعلق ہے وہ انسانی دماغ سے پیدا ہوتے ہیں اور انسانی دماغ شروع سے لے کر اب تک ایک ہی رنگ میں چلے آتے ہیں۔جب انسان کو غصہ آتا ہے تو اُس کے دماغ میں ہیجان پیدا ہوتا ہے، اس کا دورانِ خون تیز ہو جاتا ہے اور چہرہ پر بھی اس کے اثرات ظاہر ہو جاتے ہیں، جو کیفیت غصہ کے وقت انسانی دماغ کی پہلے زمانہ میں ہوتی تھی وہی اب بھی ہوتی ہے۔پہلے زمانہ میں اگر کسی کو غصہ آتا تھا تو وہ دوسرے کے گلے پر مکہ مار لیتا تھا پھر اور ترقی ہوئی تو لوگوں نے سونٹے کا استعمال شروع کیا ، پھر اور ترقی ہوئی تو لوگوں نے تیر کمان کا استعمال شروع کیا ، پھر اور ترقی ہوئی تو بندوق کا استعمال شروع ہوا اور اب اس سے بڑھ کر لوگوں نے غصہ کو فرو کرنے کے لئے ہم اور ایٹم بم کا استعمال شروع کر دیا ہے مگر غصے کے اسباب وہی ہیں جو پہلے تھے اور جو کیفیت غصے سے انسانی قلب اور دماغ کی آج سے دس ہزار سال پہلے پیدا ہوتی تھی وہی آج پیدا ہوتی ہے کوئی نیا سبب پیدا نہیں ہوا۔کوئی شخص دنیا کی عمر لاکھوں سال کی بتا تا ہے کوئی ہزاروں سال کی بتاتا ہے بہر حال غصہ کو ظاہر کرنے کے لئے جو ہیجان انسانی دماغ میں ابتدائی زمانہ میں پیدا ہوتا تھا وہی اس وقت پیدا ہوتا ہے۔صرف اس ہیجان کو ظاہر کرنے کیلئے کسی وقت کوئی تدبیر اختیار کر لی گئی اور کسی وقت کوئی تدبیر اختیار کر لی گئی۔پس ، دنیا میں جو بدامنی اور فسادات پیدا ہورہے ہیں ان کے لئے کسی نئی تدبیر کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں انسانی دماغ پر غور کرنا چاہئے کہ انسانی دماغ کیوں کسی کے خلاف بھڑک اُٹھتا ہے اور اس میں کیوں حدت اور تیزی اور جوش پیدا ہوتا ہے۔اگر ہم ان وجوہ پر غور کریں تو ہم یقیناً بدامنی کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔محض اس لئے کہ چونکہ یہ حالات ۱۹۴۶ء میں پیدا ہوئے اس لئے ہمیں کسی نئی تجویز پر غور کرنا چاہیئے بے وقوفی کی بات ہے۔اس مرض کا علاج جیسے آدم کے زمانہ میں تھا ویسا ہی آج ہے آج بھی انسانی دماغ ویسا ہی ہے۔انسانی دماغ میں کوئی تغیر و تبدل نہیں ہوا لیکن بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سیدھی سادی اور فطری تجویزوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہم کوئی نیا علاج نکالیں۔ان لوگوں کی مثال لال بجھکڑ کی سی ہوتی ہے۔کہتے ہیں کسی کی بہونئی آئی تھی ، اسے جب ہمسایوں کے گھر سے