انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 415

انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۱۵ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَىٰ رَسُولِهِ الْكَرِيمِ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے ( فرموده ۹ اکتو بر ۱۹۴۶ء بمقام کوٹھی نمبر ۸ یارک روڈ دہلی ) تشہد ، تعوذ اور سورۂ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔مجھ سے خواہش کی گئی ہے کہ میں اس طریق کار پر کچھ روشنی ڈالوں جو اسلام نے موجودہ بے چینی ، بے اطمینانی اور بدامنی کو دور کرنے کے لئے دنیا کے سامنے پیش کیا۔دنیا کی بے چینی اور بدامنی اتنی وسیع ہے کہ شاید اس دنیا کے پردہ پر اتنی وسیع بے امنی اور بے چینی کبھی نہیں ہوئی ہوگی اور اس کے اس قدر مختلف اسباب پائے جاتے ہیں کہ ان کے متعلق طائرانہ نظر ڈالنا بھی کوئی آسان کام نہیں کجا یہ کہ اس کی حقیقت کو بیان کیا جائے اور اسلام کی تعلیم کو کھول کر بیان کیا جائے اور پھر ایسے جلسے میں بیان کیا جائے جو اس وقت ساڑھے پانچ بجے شروع ہو رہا ہے آجکل چھ بجکر ۲۰ منٹ پر سورج غروب ہوتا ہے اور مغرب کا وقت زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ اور ۱۵ منٹ ہوتا ہے اگر مغرب کے وقت میں سے بھی کچھ وقت لے لیا جائے تو وہ ۱۵ تا ۲۰ منٹ ہو سکتا ہے اس تھوڑے سے وقت میں اتنے وسیع مضمون کو بیان نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اگر میں ساڑھے چھ بجے تک بھی تقریر کروں تو مشکل سے ایک گھنٹہ وقت مل سکے گا ، بہر حال میں کوشش کروں گا کہ بعض حصوں پر اختصار سے روشنی ڈالوں۔میں سب سے پہلے اس بات پر زور دینا چاہتا ہوں اور اس بات کی طرف آپ کی توجہ منعطف کرنا چاہتا ہوں کہ دنیا کے یہ فسادات کسی نئی چیز اور نئے سبب کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئے بلکہ فسادات کی وجوہ وہی ہیں جو آدم سے لے کر اب تک پیدا ہوتی چلی آئی ہیں۔بعض چیزیں ایسی ہیں جو اپنا منبع بیرونی دنیا میں رکھتی ہیں اور جو چیزیں اپنا منبع بیرونی دنیا میں رکھتی ہیں وہ بدلتی رہتی ہیں جیسے پہلے وقتوں کے لوگ اونٹوں