انوارالعلوم (جلد 18) — Page 417
انوار العلوم جلد ۱۸ ۴۱۷ دنیا کی موجودہ بے چینی کا اسلام کیا علاج پیش کرتا ہے مٹھائی آئی تو اس نے شرم کے مارے ستون کے پیچھے ہو کر اور ستون کے دونوں طرف بازو پھیلا کر مٹھائی لے لی ، مٹھائی تو دونوں ہاتھوں میں لے لی لیکن دونوں بازوؤں کے درمیان ستون آ گیا۔اب اگر وہ ہاتھ نکالے تو مٹھائی گر جاتی تھی اور وہ مٹھائی بھی نہیں گرانا چاہتی تھی۔وہ اسی حالت میں تھی کہ ساس سسر جو کہیں باہر گئے ہوئے تھے وہ آ گئے انہوں نے بہو کو اس حالت میں دیکھا تو بہت پریشان ہوئے کہ اب کیا کیا جائے ان کو کسی نے کہا کہ تم لال بجھکڑ سے جا کر اس کا حل پوچھو۔وہ لال بجھکڑ کے پاس گئے تو اس نے آ کر دیکھا اور دیکھ کر کہا پہلے مکان کی چھت اُتارو، پھرستون کی اینٹیں نکال لو اس طرح لڑکی کے بازو باہر نکل آئیں گے۔چنانچہ اُنہوں نے اس طرح کرنا شروع کر دیا ، مکان کی چھت اُتار رہے تھے کہ کوئی شخص دریا پار کے علاقہ سے آیا ؟ اس نے پوچھا کہ بات کیا ہے؟ لوگوں نے سارا واقعہ سنایا اس نے لال بجھکڑ سے کہا یہ کونسی مشکل بات تھی جس کے لئے تم چھت اُتار رہے ہو۔لڑکی کے ہاتھوں کے نیچے تھالی رکھ کر مٹھائی اس میں گرالو اور اس کے بازو نکال لو۔لال بجھکڑ نے کہا اگر اس طرح کیا جائے تو اُستادی کیا ہوئی یہی حالت آج کل کے لوگوں کی ہے وہ سوچتے ہیں کہ ہم کوئی نیا حل نکالیں جس سے ہماری استادی ظاہر ہو۔یہ علیحدہ بات ہے کہ پہلے زمانہ کے لوگ اونٹوں پر سفر کرتے تھے اور اب لوگ ریلوں اور ہوائی جہازوں پر سفر کرتے ہیں یا پہلے زمانہ کے لوگ غصہ کے وقت تھپڑ اور گھونسے سے کام لیتے تھے اور آج کل کے لوگ بم اور ایٹم بم سے کام لیتے ہیں لیکن انسانی دماغ ایک ہی قسم کا ہے اور فساد کی وجوہ بھی وہی ہیں جو پہلے تھیں۔پس ہمیں کسی نئے علاج کے سوچنے کی ضرورت نہیں ہم آج اسی چیز کو استعمال کریں گے جو آج سے ہزاروں سال قبل استعمال کی گئی تھی۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک عام بات فسادات کے متعلق بیان فرمائی ہے کہ فسادات کیوں ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لوكَانَ فيْهِمَا الهَةُ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَنَا فَسُبْحَنَ اللَّهِ رَبِّ الْعَرْشِ عما يصفون اگر زمین و آسمان میں ایک خدا سے زائد خدا ہوتے تو ان میں فساد اور لڑائی جھگڑے ہوتے اور وہ لڑائی جھگڑے کی وجہ سے بے اطمینان رہتے اور یہ نظام عالم نہ چل سکتا۔پس اللہ تعالیٰ جو رب العرش ہے شرک سے پاک ہے تم نظام عالم پر غور کر کے دیکھو کہ