انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 392

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۲ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین ہوتا ہے اور ایک جرنیل جو بادشاہ کے دربار میں انعام حاصل کرنے کیلئے پیش ہوتا ہے ان دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔جرنیل پر لوگ رشک کرتے ہیں لیکن مجرم کی حالت پر افسوس کرتے ہیں حالانکہ دونوں ایک ہی بادشاہ کے سامنے پیش ہوئے لیکن ایک مجرم کی حیثیت میں مذامت سے اپنا سر جھکائے ہوئے تھا اور دوسرا اپنی کامیابی پر خوش تھا اور دنیا اُس پر رشک کرتی تھی۔پس اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور ان کے مطابق اپنے اندر بیداری پیدا کر واللہ تعالیٰ کی نگاہ میں مرد اور عورت دونوں برابر ہیں اور دونوں کی ذمہ داریاں یکساں ہیں۔جب ہم تاریخ پر نظر دوڑاتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ دو نبی ایسے ہیں جن کی تاریخ محفوظ ہے ان میں ایک نبی کی تاریخ بہت ہی محفوظ ہے اور وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔آپ کی زندگی کے تمام حالات سچے طور پر محفوظ ہیں اور دوسرے حضرت عیسی علیہ السلام ہیں ان کی زندگی کے چند سالوں کے تفصیلی حالات موجود ہیں۔ان کے زمانہ نبوت کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے زمانہ میں عورتوں نے قربانیوں میں بہت خاصہ حصہ لیا۔حضرت عیسی علیہ السلام کے حواریوں میں سے بعض عورتیں بھی تھیں جو اپنا دن رات تبلیغ میں صرف کرتی تھیں۔عیسائی عورتیں آج تک اُن عورتوں کی قربانی پر فخر کرتی ہیں۔حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کے تختے سے جب اُتارا گیا تو انہیں ایک قبر میں رکھا گیا جیسا کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیشگوئی تھی کہ میں تین دن رات قبر میں رہنے کے بعد زندہ باہر نکلوں گا۔حضرت عیسی علیہ السلام جب قبر سے باہر نکلے تو ان کے ملنے کے لئے عورتیں ہی پہلے وہاں پہنچیں مرد تو ڈر کے مارے بھاگ چکے تھے۔حضرت عیسی علیہ السلام کے پاس صبح سویرے ہی مریم مگر لینی اور اس کے ساتھ دو اور عور تیں پہنچ گئیں اور وہ حکومت کے ڈر سے مرغوب نہ ہوئیں۔اس موقع پر مردوں سے بڑھ کر عورتوں نے جو دلیری دکھائی اور ایمان کا نمونہ دکھایا عیسائی عورتیں اس پر فخر کرتی ہیں۔اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ کی عورتوں نے قربانی کا جونمونہ قائم کیا اُس کی نظیر آج تک نہیں ملتی اور ان قربانیوں کو پڑھ کر ایک مسلمان کا دل وجد کر نے لگتا ہے کہ اس کی مائیں اور دادیاں کس شان کی عورتیں تھیں اور انہوں نے کیسا اعلیٰ معیار قربانی کا قائم کیا۔اس میں شبہ نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لانے والی یہ صحابیات عرب تھیں اور اس میں