انوارالعلوم (جلد 18) — Page 391
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۱ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین ذمہ داریوں کے متعلق پوچھا جائے گا جس طرح گڈریے کا فرض ہے کہ وہ اپنی بھیڑوں کی حفاظت کرے اسی طرح ہر مرد و عورت اپنے کاموں کے متعلق ذمہ دار ہے۔اگر عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ بچوں کی نگرانی کرے اور خاوند کے گھر اور مال کی حفاظت کرے تو اس سے انہی چیزوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔اگر مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بال بچوں کی پرورش کا انتظام کرے تو اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا۔اسی طرح جو چیز میں نوکر کے سپر د تھیں اور جو کام نوکر کے سپرد تھے اس سے ان کے متعلق سوال کیا جائے گا۔پس مردوں کا یہ خیال کرنا کہ عورتیں کسی قربانی میں حصہ نہ لیں اور دین کے کاموں سے علیحدہ رہیں اور اُن کے لئے کھلونا بنی رہیں یا عورتوں کا یہ سمجھنا کہ انہیں کسی قسم کی قربانی میں حصہ نہیں لینا چاہئے یہ دونوں نقطہ نگاہ غلط ہیں جب تک ہماری عورتیں اور ہمارے مرد اپنی ذمہ داریوں کو محسوس نہیں کریں گے اور اس اختلاف کو دور کرنے کی کوشش نہیں کریں گے اُس وقت تک کامیابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔اسی اختلاف کو دُور کرنے کے لئے میں نے لجنہ اماءاللہ کی مجلس قائم کی اور لجنہ اماءاللہ کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کی لونڈیوں کی مجلس۔جس طرح مرد کیلئے سب سے پسندیدہ نام عبداللہ ہے اسی طرح عورت کیلئے سب سے پسندیدہ نام امتہ اللہ ہے۔قرآن کریم میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خوبیوں میں سے جس خوبی کا نام اللہ تعالیٰ نے لیا ہے وہ عبد الله ۵ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا بندہ۔گویا اللہ تعالیٰ کا بندہ ہونا سب سے بڑی خوبی ہے اسی طرح عورت کے لئے سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی لونڈی ہو۔جس طرح غلام پر فرض ہوتا ہو کہ وہ اپنے آقا کے تمام حکموں کو پورا کرے اسی طرح میں نے تمہیں یہ نام دے کر توجہ دلائی تھی کہ تم اللہ تعالیٰ کی لونڈیاں بننے کی کوشش کرو۔اس وقت تمہارے لئے موقع ہے کہ تم ایسے کام کر وجن سے تم اپنے آقا کو راضی کر لو اور جب تم اس کے سامنے جاؤ تو تم اس سے انعام کی امیدوار ہو۔اور تمہارے لئے یہ بھی موقع ہے کہ تم اپنے فرائض کو پس پشت ڈال کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی مورد بنو اور مجرم کی حیثیت میں اُس کے سامنے پیش ہو۔اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ سے انعام حاصل کرنے کے لئے پیش کیا جائے گا اور اس شخص میں جو اللہ تعالیٰ کے سامنے مجرم کی حیثیت میں پیش ہوگا زمین و آسمان کا فرق ہے۔ایک شخص جو بادشاہ کے سامنے مجرم کی حیثیت سے پیش