انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 393

انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۹۳ فریضہ تبلیغ اور احمدی خواتین بھی شبہ نہیں کہ اکثر مسلمان عرب نہیں لیکن مذہب کے لحاظ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحابیات ہر مسلمان کی مائیں اور دادیاں ہیں چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تمام مسلمانوں کا باپ قرار دیتا ہے سکے اس لحاظ سے آپ صرف عرب کے مسلمانوں کے ہی باپ نہیں بلکہ آپ مسلمان پٹھانوں کے بھی باپ ہیں، مسلمان راجپوتوں کے بھی باپ ہیں، مسلمان جائوں کے بھی باپ ہیں بلکہ آپ ادنی اقوام سے مسلمان ہونے والوں کے بھی باپ ہیں۔ہر ایک شخص جو کلمہ پڑھتا ہے اس کے آپ باپ ہیں اسی طرح آپ کی صحابیات آپ کے زمانہ کے لوگوں کی مائیں اور بہنیں تھیں اور اس زمانہ کے مسلمانوں کی دادیاں ہیں۔جب ایک مسلمان ان واقعات کو پڑھتا ہے تو وہ محو حیرت ہو جاتا ہے کہ میری دا دیاں کیسی شان دار قربانی کرنے والی تھیں۔مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مسلمانوں پر بہت مظالم ہوتے تھے اور مسلمانوں کو قسم قسم کے دکھ دیئے جاتے تھے ان مسلمانوں میں کچھ لوگ آزاد تھے اور کچھ غلام تھے جو لوگ غلام تھے اُن کو بہت زیادہ تکلیفیں دی جاتی تھیں اور وہ اکثر مصائب کا نشانہ بنے رہتے تھے لیکن آزاد مسلمانوں پر دشمنوں کا زور کم چلتا تھا اس لئے ان کو بہت زیادہ تکلیفیں نہ دے سکتے تھے۔ان غلاموں میں دومیاں بیوی بھی تھے ان کا مالک اس قسم کے ظلم اُن پر کرتا تھا کہ اُن کو پڑھ کر انسان کا دل کانپنے لگتا ہے۔ان کا مالک انہیں تپتی ریت پر لٹا دیتا اور ان کی چھاتیوں پر چڑھ کرکو دتا اور انہیں دھوپ میں ڈال دیتا ، ان کی آنکھیں سرخ ہو کر سُوج جاتیں اور اُسے ذرا بھی رحم نہ آتا۔ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے آپ نے دیکھا کہ ان پر سخت ظلم ہورہے ہیں ان کے مالک نے میاں بیوی کو تپتی ہوئی ریت پر لٹایا ہوا تھا اور انہیں سخت دُکھ دے رہا تھا اور کہتا جاتا تھا کہ محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کا انکار کرو اور کہو کہ خدا کے سوا اور معبود بھی ہیں یہ جب ایک باپ اپنی اولاد کی یہ کیفیت دیکھ کر بے چین ہو جاتا ہے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جو کہ ماں باپ سے زیادہ محبت کرنے والے تھے یہ تکلیف کب برداشت کر سکتے تھے آپ کو سخت تکلیف ہوئی آپ اُن کے پاس کھڑے ہو گئے اور شاید ان کے لئے دعا کی اور خدا تعالیٰ سے ان کے متعلق خبر پائی اس پر اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا صبر کر وصبر کرو اللہ تعالیٰ تمہاری یہ