انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 347 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 347

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۴۷ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با ترجمہ نہ آتا ہو بہت آسان ہے۔میرا بیٹا ناصر احمد حافظ ہے اور اس نے پندرہ سال کی عمر میں ہی قرآن کریم حفظ کر لیا تھا اور اس گئے گزرے زمانہ میں بھی جبکہ مسلمان اسلام سے بے اعتنائی کر رہے ہیں لاکھوں حافظ موجود ہیں۔ابتداء میں رسول کریم ﷺ کی قوم لکھنے کو عار سمجھتی تھی لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں ہی صحابہ کی تعلیم کا انتظام کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں مسلمانوں نے بہت جلد لکھنے پڑھنے میں مہارت پیدا کر لی اور قرآن کریم بھی لکھا جانے گا۔چنانچہ پہلے حضرت ابو بکر نے قرآن کریم کو جو الگ الگ ٹکڑوں میں لکھا ہوا تھا ایک جلد میں لکھایا۔پھر حضرت عمرؓ اور حضرت عثمان نے حفاظ سے اس کی نظر ثانی کرائی تاکہ لکھنے والوں سے اگر لکھنے میں کوئی غلطی ہو گئی ہو تو اصلاح کروا دی جائے۔اس کے علاوہ اصل کام حضرت عثمان نے قرآن کریم کی حفاظت کے متعلق یہ کیا کہ کئی جلدیں لکھوا کر تمام اسلامی ممالک میں بھجوا دیں تا کہ لوگوں میں تلاوت کا جو اختلاف تھا وہ مٹ جائے۔مختلف علاقوں میں مختلف الفاظ ایک ہی مفہوم ادا کر نے کیلئے بولے جاتے ہیں اور جب تعلیم عام ہو جاتی ہے تو وہ اختلاف مٹ جاتا ہے۔مستشرقین یورپ نے قراءتوں کے اختلاف کو ایک ایسا رنگ دے دیا ہے کہ عام انسان ان کا جواب دینے سے گھبرا جاتا ہے حالانکہ بات کچھ بھی نہیں پنجاب کے ہی مختلف علاقوں میں ایک ہی مفہوم کے ادا کرنے کے لئے مختلف الفاظ بولے جاتے ہیں۔مثلاً قادیان کے لوگ اگر پنجابی میں یہ کہنا چاہیں کہ انہوں نے پکڑ لیا ہے تو کہیں گے پھڑ لیا لیکن گجرات وغیرہ کے لوگ کہیں گئے پھر لیا اب کیا کوئی شخص شور مچاتا ہے کہ بڑا خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ زبانوں میں اس قد راختلاف ہے۔دتی والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہماری اُردو اچھی ہے اور لکھنو والے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اُن کی اُردو اچھی ہے۔دہلی والے کیچڑ کہتے ہیں لیکن لکھنؤ والے اس کو کیچ کہیں گے۔جس طرح ہمارے ہاں زبانوں میں اختلاف ہے اسی طرح عربوں میں بھی بعض اختلاف تھے۔بعض قبائل میم کی جگہ ب بولتے تھے جیسے مکہ کو بکہ کہ دیتے تھے۔جب کسی کو نزلہ و زکام ہو تو وہ میم ادا نہیں کر سکتا۔اگر وہ میری کہے گا تو منہ سے بیری نکلے گا۔اُس زمانہ میں آبادیاں بہت دور ہوتی تھیں اگر وہ بیمار ہوتا تو وہ خیمے میں ہی پڑا رہتا۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بچے جو تلفظ اس