انوارالعلوم (جلد 18) — Page 346
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۴۶ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم باترجمہ نہ آتا ہو حوادث سے۔دوم جو بالا رادہ کی جائے۔اگر پہلی بات لوتو قرآن کریم کی آیات میں اتفاقی حادثہ کے رنگ میں کسی قسم کی تبدیلی بھی ثابت نہیں۔اتفاقی حادثہ یہ ہو سکتا تھا کہ مثلاً رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کی کسی لمبی عبارت کا کوئی فقرہ بھول جاتا اور آپ اس کی جگہ کوئی اور فقرہ رکھ دیتے مگر یہ اعتراض نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کسی کافر نے کیا اور نہ ہی مسلمانوں میں سے کبھی کسی نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کریم کا کوئی فقرہ بھول گیا تھا۔بعد میں بے شک دشمنوں نے اس قسم کی خرافات آپ کی طرف منسوب کرنے کی کوشش کی ہے مگر بعد کی بنائی ہوئی بات کو کون درست تسلیم کر سکتا ہے ہر شخص اسے دشمنی اور عداوت پر ہی محمول کرے گا۔باقی رہا قرآن کریم کے کسی حصہ کا پالا رادہ نکال دینا سو اس کے مدعی مسلمانوں میں سے صرف شیعہ ہیں جو کہتے ہیں کہ قرآن کریم کے بعض حصے ارادتاً چھوڑ دیئے گئے ہیں مگر ان کی غلطی آپ ہی ظاہر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی ہی حکمت ہے کہ حضرت علی آخری خلیفہ ہوئے اگر وہ حضرت ابو بکر یا حضرت عمر یا حضرت عثمان کے زمانہ میں فوت ہو جاتے تو شیعہ کہتے کہ ان کے پاس جو قرآن کا حصہ تھا وہ ان کے ساتھ ہی چلا گیا مگر خدا تعالیٰ نے حضرت علی کو ان خلفاء کے زمانہ میں زندگی دی اور حضرت عثمان کے بعد خلافت پر بٹھا یا۔اب بے شک کوئی شیعہ یہ کہے کہ حضرت علی نے اُس وقت بھی قرآن کریم کا وہ حصہ چھپائے رکھا جو اُن کے پاس تھا مگر اس کو کون درست سمجھ سکتا ہے ہر شخص یہی کہے گا کہ حضرت علیؓ جب خود بادشاہ بن گئے تھے تو انہوں نے قرآن کریم کا وہ حصہ کیوں ظاہر نہ کیا۔غرض کوئی اعتراض قرآن کریم پر ایسا نہیں پڑتا جو معقول ہوا اور قرآن کریم کی حفاظت کے متعلق شبہ پیدا کر سکے۔پھر قرآن کریم کے بیسیوں حفاظ اُس وقت موجود تھے اس وجہ سے بھی قرآن کریم میں خرابی کا امکان نہیں ہو سکتا۔یہ شرف بھی صرف قرآن کریم کو حاصل ہے کہ ایک وقت میں اس کے بیسیوں حافظ موجود تھے اور پھر وہ سینکڑوں کی تعداد میں ہو گئے ، پھر سینکڑوں سے ہزاروں کی تعداد میں ہو گئے اور اس وقت لاکھوں کی تعداد میں حفاظ موجود ہیں سوائے قرآن کریم کے دنیا کی کوئی الہامی کتاب ایسی نہیں جس کو حفظ کیا جاتا ہو۔اللہ تعالیٰ نے اسے ایسی اعلیٰ ترتیب کے ساتھ اُتارا ہے کہ اس کا یا د کرنا