انوارالعلوم (جلد 18) — Page 348
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۴۸ کوئی احمدی ایسا نہیں ہونا چاہئے جسے قرآن کریم با ترجمہ نہ آتا ہو سے سنتے ویسا ہی کہنا شروع کر دیتے۔ان کو اصل زبان کا علم کیسے ہوسکتا تھا۔جس طرح ان کے ماں باپ نے ان کے سامنے کوئی لفظ بولا اسی طرح انہوں نے بولنا شروع کر دیا اور وہ اس جگہ کی زبان بن گئی۔ہم نے کئی دفعہ سنا ہے۔چھوٹے بچے میری کو میلی کہتے ہیں۔غرض زبان کے تو تلے ہونے یا کسی اور نقص کی وجہ سے جو لفظ بار بار نکلے گا وہی اس علاقے کی زبان بن جائے گا۔جیسے پنجابی میں پھڑ لو اور پھر لو“ بن گیا لیکن آہستہ آہستہ جب تعلیم پھیل گئی اور زبان مکمل ہوگئی تو یہ اختلاف مٹ گیا۔پس یہ قرآت کا اختلاف ایسا نہیں جو قرآن کریم کے محفوظ ہونے کے متعلق کوئی شبہ پیدا کر سکے۔میرا جی چاہتا ہے کہ اختلاف الفاظ کے اسباب پر ایک کتاب من الرحمن کے طور پر لکھی جائے جس میں بتایا جائے کہ اختلاف کے کیا اسباب اور وجوہ ہوتے ہیں۔قرآن کریم کی حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیئے ہیں کہ اس کی حفاظت میں محبہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے کہ انہوں نے قرآن کریم کی طرف سے توجہ ہٹالی ہے اور دوسری طرف چلے گئے ہیں حالانکہ یہ ایک نہایت ہی قیمتی چیز خدا تعالیٰ کی طرف سے عظیم الشان نعمت کے طور پر مسلمانوں کو ملی تھی۔اب جماعت احمدیہ کو اس کی طرف پوری توجہ کرنی چاہئے اور ہمارا کوئی آدمی ایسا نہیں رہنا چاہئے جو قرآن کریم نہ پڑھ سکتا ہو اور جسے اس کا ترجمہ نہ آتا ہو۔اگر کسی شخص کو اُس کے کسی دوست کا کوئی خط آ جائے تو جب تک وہ اُسے پڑھ نہ لے اسے چین نہیں آتا اور اگر خود پڑھا ہوا نہ ہو تو یکے بعد دیگرے دو تین آدمیوں سے پڑھائے گا تب اُسے یقین آئے گا کہ پڑھنے والے نے صحیح پڑھا ہے لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کا خط آئے اور اس کی طرف توجہ نہ کی جائے۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ غرباء قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور امراء اس کی ضرورت ہی نہیں سمجھتے۔حالانکہ جو شخص دنیاوی لحاظ سے کوئی علم رکھتا ہے یا امیر ہے تو اُس کے لئے قرآن کریم کا پڑھنا زیادہ آسان ہے کیونکہ اس کو قرآن کریم کے پڑھنے کے مواقع میسر آ سکتے ہیں۔میرے نزدیک ایسے لوگ جو کہ تعلیم یافتہ ہیں مثلاً ڈاکٹر ہیں ، وکیل ہیں ، بیرسٹر ہیں، انجینئر ہیں وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک زیادہ مجرم ہیں کیونکہ وہ اگر قرآن مجید پڑھنا چاہتے تو بہت آسانی سے اور بہت جلدی پڑھ سکتے تھے پس ایسے