انوارالعلوم (جلد 18) — Page 335
انوار العلوم جلد ۱۸ ۳۳۵ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں آج خدا نے ہماری حسرت بھی پوری کر دی تو یہ سامنے شیطان بیٹھا ہے اسے خوب اچھی طرح دیکھ لو خدا نے بڑی مدت کے بعد ایسا اچھا موقع ہمیں نصیب کیا ہے کہ شیطان ہم نے دیکھ لیا ہے۔اب یا تو وہ بڑے شوق سے انہیں اپنے پاس بٹھا کر اس طرح خاموش ان کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیٹھے تھے جس طرح ایک بزرگ بیٹھا ہوتا ہے اور یا جب انہوں نے یہ بات سنی تو ہاتھ چھڑانے لگ گئے مگر وہ نہ چھوڑیں اور یہی کہتے جائیں کہ بڑی مدت سے خواہش تھی کہ شیطان کو دیکھیں سو آج خدا نے ہماری یہ خواہش بھی پوری کر دی اور ہم نے شیطان کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔تو اس قسم کے لوگ ہمیشہ ہوتے رہتے ہیں۔اگر وہ بات سن کر اُٹھ کر چلا جاتا تو وہ اثر نہ ہوتا جو اس صورت میں اُس پر ہوا ہوگا۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کے بعد چار پانچ ماہ تک انہوں نے کسی کو آواز نہیں دی ہوگی کہ آؤ اور میری بات سن جاؤ۔اگر سارے مؤمن ایسی ہی غیرت دکھلائیں اور جب کوئی شخص انہیں ورغلانے کی کوشش کرے تو وہ بلند آواز سے أعوذ پڑھ کر اور بائیں طرف تھوک کر کہیں کہ قرآن کریم نے ہمیں یہی ہدایت دی ہے کہ جب تمہارے پاس شیطان آئے تو تم أَعُوذُ پڑھ لیا کرو تو میں سمجھتا ہوں ایسے منافق کو بات کرنے کی جرأت ہی نہ ہو۔وہ اسی وقت جرات کرتا ہے جب سمجھتا ہے کہ منافق یا کمزور آدمی میری بات سن کر ہنستار ہے گا۔اگر اس میں کچی غیرت ہو تو دوسرے شخص کو جرات ہی نہیں ہو سکتی کہ اس سے ایسی باتیں کرے۔بے غیرتی دوسروں میں بھی بے غیرتی پیدا کر دیتی ہے اور غیرت دوسروں میں بھی غیرت پیدا کر دیتی ہے۔مجھے یاد ہے میں چھوٹا بچہ تھا کہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیچھے پڑ کر اپنے لئے ہوائی بندوق منگوائی۔مجھے شکار کا شوق تھا ایک دن ہم اور بچوں کو اپنے ساتھ لے کر عید گاہ کی طرف جو راستہ جاتا ہے اُس طرف شکار کے لئے گئے اور نا تھ پور کے قریب جا پہنچے وہ سکھوں کا گاؤں ہے ہم اردگرد شکار کے لئے کوئی فاختہ تلاش کر رہے تھے کہ ایک سکھ نوجوان دوڑا دوڑا آیا اور اس نے کہا یہاں کیا ہے چلو میں شکار بتا تا ہوں۔چنانچہ وہ ہمیں اپنے گھر لے گیا وہاں کیکر یا بیری کا ایک درخت تھا جس پر آٹھ دس فاختائیں بیٹھی تھیں۔میں ابھی نشانہ ہی باندھ رہا تھا کہ ایک بڑھیا عورت اندر سے نکلی اور اس نے بڑے جوش سے کہا ہمارے گاؤں