انوارالعلوم (جلد 18) — Page 336
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۳۳۶ ہماری جماعت میں بکثرت حفاظ ہونے چاہئیں میں جیو ہتیا ہونے لگی ہے یہ کہتے ہوئے اس نے شور ڈال دیا اور ہمیں گالیاں دینی شروع کر دیں۔ہم نے اس کے شور پر کسی فاختہ کو نہ مارا اور ہمیں کوئی تعجب بھی نہ ہوا کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ غیر مسلم ہیں انہیں شکار ضرور بُرا معلوم ہوتا ہے۔مگر ہمیں زیادہ حیرت اس بات پر ہوئی کہ وہی لڑکا جو ہمیں اپنے ساتھ لایا تھا اس کی آنکھیں بھی سرخ ہو گئیں اور وہ بڑے غصہ سے کہنے لگا چلے جاؤ یہاں سے تم یہاں کہاں شکار کے لئے آئے ہو۔ہمیں حیرت ہوئی کہ یہ تو خود ہمیں شکار کے لئے لایا تھا اب یہی کہہ رہا ہے کہ چلے جاؤ یہاں آئے کیوں تھے۔تو اصل بات یہ ہے کہ غیرت متعدی چیز ہوتی ہے۔ہم جب شکار کر رہے تھے تو اُس پر بھی اثر پڑا اور اُس نے کہا کہ شکار بہت اچھا ہوتا ہے۔پھر جب عورت نے شور مچایا کہ جیو ہتیا ہونے لگی ہے تو وہ بھی کہنے لگا کہ جیو ہتیا ہم برداشت نہیں کر سکتے تو جس قسم کا اثر ڈالا جائے اسی قسم کا اثر دوسرے پر پڑ جاتا ہے۔یہی چیز ہے جو کامیابی کا باعث بنتی ہے۔لوگ کہتے ہیں آج پراپیگنڈہ کا زمانہ ہے حالانکہ جب سے آدم پیدا ہوا پرا پیگنڈہ ہوتا چلا آتا ہے۔شیطان نے بھی یہی کیا تھا کہ آدم سے اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسی لئے شجرہ سے منع کیا ہے کہ تم اس طرح دائمی زندگی حاصل کر لو گے۔اس نے کوئی دلیل نہیں دی صرف ایک بات تھی جو اس نے بار بار کہی کیونکہ بار بار کہنے سے اثر ہو جاتا ہے۔ایک شخص نے اسی حقیقت کو لطیفہ کے رنگ میں بیان کیا ہے وہ لکھتا ہے کہ ایک پادری تھا اس پر کچھ مالی تنگی کے دن آئے تو وہ اپنی بکری بیچنے کے لئے اُسے بازار لے گیا۔رستہ میں چند بدمعاشوں نے اسے دیکھا تو ان کا جی لچایا اور انہوں نے چاہا کہ کسی طرح بکری اس سے چھین لی جائے۔ایک نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔آخر یہ پادری ہے ہم اسے مار تو سکتے نہیں پھر بکری اس سے کس طرح چھینی جائے؟ دوسرے نے کہا ترکیب میں بتاتا ہوں تم عمل کرنے والے بنو۔وہ چار پانچ آدمی تھے۔اس نے سب کو سو سو دو دو سو گز کے فاصلہ پر کھڑا کر دیا اور ہر ایک کو سکھایا کہ جب پادری تمہارے پاس سے گزرے تو تم اسے کہنا کہ پادری صاحب! یہ کتا کہاں لے چلے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔پادری صاحب جا رہے تھے کہ پہلا آدمی اُنہیں ملا۔اُس نے کہا کیوں پادری صاحب! یہ کتا کہاں لے جا رہے ہیں آپ کی شایان شان