انوارالعلوم (جلد 18) — Page 279
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۷۹ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد بڑے سے بڑے نبی کی وفات بھی اس کے قدم کو متزلزل نہیں کر سکتی بلکہ بعض برکات اور ترقیات ایسی ہوتی ہیں جو انبیاء کی وفات کے بعد قوم کو حاصل ہوتی ہیں بشرطیکہ قوم صحیح رنگ میں ایمان پر قائم ہو۔پس اپنے اندر ایسی تبدیلی پیدا کرو اور اپنے نفوس میں ایسا تغییر رونما کرو کہ تمہارے دلوں میں یہ بات گڑ جائے کہ ہم نے اپنے آپ کو خدا تعالیٰ سے وابستہ کرنا ہے اور اس کی محبت اور پیار کو حاصل کرنا ہے۔جب کسی کو خدا تعالیٰ کی محبت حاصل ہو جائے تو پھر نصیحت کی آواز خود انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے بیرونی نصیحتوں کی اُسے ضرورت نہیں رہتی۔ہماری جماعت کو یہ امر بھی کبھی فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ مقدر کر رکھا ہے کہ ہم اسلام کو دنیا کے تمام مذاہب پر غالب کریں مگر اس کے لیئے ضروری ہے کہ ہم ساری دنیا میں اپنی آواز پہنچانے کے لئے دنیا کے تمام ممالک میں اپنے مبلغین پھیلا نے کی کوشش کریں۔میں ایک لمبے غور کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اگر ہم صحیح طور پر تبلیغ کرنا چاہیں تو فی مرکز ہمیں کم از کم چھ مبلغ رکھنے چاہئیں۔یہ تعدا د اگر چہ آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں اور ایک وسیع علاقہ میں چھ مبلغین کا ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا لیکن پھر بھی اگر بیج کے طور پر ہم اپنی تبلیغ کو دنیا میں پھیلانا چاہیں تو اس سے کم میں ہمارا گزارہ نہیں ہوسکتا۔یہ چھ مبلغ جو ایک علاقہ کے لئے تجویز کئے گئے ہیں اس سے مراد کوئی چھوٹا علاقہ نہیں بلکہ سر دست ہمارے مدنظریہ ہے کہ اگر ہم یونائٹیڈ سٹیٹس امریکہ جیسے وسیع ملک میں اپنا مرکز قائم کریں تو وہاں بھی اپنے چھ مبلغ رکھیں حالانکہ وہاں کی آبادی بارہ کروڑ ہے اور وہ ہندوستان سے دو گنا ملک ہے۔اسی طرح ہم یہ چھ مبلغ آسٹریلیا کے لئے تجویز کر رہے ہیں حالانکہ وہ ہندوستان سے تکنا علاقہ ہے لیکن بظاہر یہ تعداد خواہ کس قدر نا کافی ہو ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم جو بھی مشن قائم کریں اُس کو کا میاب طور پر چلانے کے لئے ایک علاقہ میں ابتدائی طور پر چھ مبلغ رکھیں۔ان چھ مبلغین میں سے ایک تو ایسا ہوگا جس کا کام یہ ہوگا کہ وہ مرکز میں بیٹھ کر رات دن کام کرے جو لوگ ملنے کے لئے آئیں ان سے تبادلہ خیالات کرے۔انہیں سلسلہ کے حالات بتائے۔مکان اور مسجد وغیرہ دکھائے اور ان کے شبہات کا ازالہ کرے گویا وہ مرکزی انچارج ہوگا۔دوسرے مبلغ کا یہ کام ہو گا کہ وہ علمی طبقہ سے اپنے تعلقات رکھے اور انہیں احمدیت کی