انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 278

انوار العلوم جلد ۱۸ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد تختہ ہے اور میں اسے توڑ پھوڑ دوں کیونکہ اُس تختہ پر بادشاہ سوار ہوتا ہے اور اس لکڑی کو چھیڑنے کے معنی تخت شاہی کو چھیڑنے کے ہوتے ہیں اسی طرح وہ شخص جو مجھ کو چھیڑے گا وہ مجھ کو نہیں بلکہ عرشِ الہی کو چھیڑے گا کیونکہ خدا نے اپنے جلال کا اظہار میرے نام سے وابستہ کر دیا ہے۔لیکن بہر حال میں نے ایک دن مرنا ہے دنیا میں کو ئی شخص عارضی اور فانی کاموں کے متعلق بھی یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ اس کی موت کے ساتھ ختم ہو جائیں پھر جو چیز بمنزلہ جان اور روح ہو اس کے متعلق کون شخص پسند کر سکتا ہے کہ وہ اُس کی موت کے ساتھ ہی ختم ہو جائے۔خدا تعالیٰ کے نام کی بلندی اور اس کے جلال کا اظہار ہر مؤمن کی جان اور اُس کی روح ہے پھر کوئی مؤمن یہ کس طرح برداشت کر سکتا ہے کہ میں مروں تو خدا تعالیٰ کا نام بھی دنیا سے مٹ جائے اسی طرح میری ہمیشہ سے یہ خواہش رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کا نام صرف میرے ساتھ وابستہ نہ ہو بلکہ خدا تعالیٰ کا نام تمہارے ساتھ وابستہ ہو جائے کیونکہ انسان مرسکتا ہے مگر قوم نہیں مرسکتی۔جب کوئی نام کسی قوم کے ساتھ وابستہ ہو جائے تو پھر وہ چلتا چلا جاتا ہے اور قوم کے بیٹے نسلاً بعد نسل اُس مقدس امانت کے حامل بنتے چلے جاتے ہیں۔در حقیقت فرد کے ساتھ کسی چیز کی وابستگی قومی لحاظ سے کوئی بڑا کمال نہیں ہوتا۔قومی لحاظ سے بڑائی تبھی ہوتی ہے جب قوم سے اللہ تعالیٰ کا نام وابستہ ہو جائے اسی لئے مجھے ہمیشہ یہ تڑپ رہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت تمہارے دلوں میں پیدا ہو جائے اور اس سے سچا اور مخلصانہ تعلق تم کو حاصل ہو اور میں اس غرض کے لئے ہمیشہ کئی قسم کی کوششیں کرتا رہا ہوں۔میں نے ہزاروں راستے اور ہزاروں ذرائع تمہارے سامنے رکھے اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ان ذرائع پر عمل کر کے سینکڑوں اور ہزاروں مخلص بھی پیدا ہوئے مگر پھر بھی ہماری جماعت میں حقیقی اخلاص کی ابھی کمی ہے جس کے لئے میں اللہ تعالیٰ سے متواتر دعائیں کرتا رہتا ہوں۔اب اس موقع پر میں ایک دفعہ پھر جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ یا د رکھو کہ میری موت یا حیات تو کوئی چیز ہی نہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی موت بڑی چیز تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ان سے بھی بڑی چیز تھی مگر اس حقیقت کے باوجود میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ اگر جماعت حقیقی ایمان پر قائم ہو اور وہ خدا تعالیٰ سے سچا اور مضبوط تعلق رکھتی ہو تو کسی