انوارالعلوم (جلد 18) — Page 277
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۷۷ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد یہ حالت تھی کہ حضرت مسیح موعود کی زندگی میں جو آخری سالانہ جلسہ ہوا اُس میں شامل ہونے والوں کی کل تعداد سات سو تھی اور حضرت خلیفہ اول کی زندگی میں جو آخری سالانہ جلسہ ہوا اس میں شامل ہونے والوں کی کل تعداد تیرہ سو تھی اور گجا یہ حالت ہے کہ اب ہمارے جلسہ کی حاضری اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳۴، ۳۵ ہزار کے قریب پہنچ چکی ہے گویا حضرت خلیفۃ المسیح اوّل کے زمانہ میں آخری جلسہ سالانہ پر جس قدر آدمی آئے تھے اُن سے ۲۵ گنا زیادہ آدمی آج ہمارے سالانہ جلسہ میں موجود ہیں اور یہ تعداد ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال زیادتی ہوتی چلی جاتی ہے۔میں نے بارہا کہا ہے گو میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ میں تقریر کرنے کے بعد یہاں سے زندہ اُٹھوں گا یا نہیں مگر جو کچھ میں کہتا ہوں ( اور میں وہی کچھ کہتا ہوں جو مجھے خدا تعالیٰ نے کہا ) وہ یہ ہے کہ میرے آخری سانس تک خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت کے لئے غلبہ اور ترقی اور کامیابی ہی مقدر ہے اور کوئی اس الہی تقدیر کو بدلنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا اس بات پر خواہ کوئی ناراض ہو، شور مچائے ، گالیاں دے یا بُرا بھلا کہے اس سے خدائی فیصلہ میں کوئی فرق نہیں پڑسکتا۔یہ تقدیر مبرم ہے جس کا خدا آسمان پر فیصلہ کر چکا ہے کہ وہ میری زندگی کے آخری لمحات اور میرے جسم کے آخری سانس تک جماعت کا قدم ترقی کی طرف بڑھاتا چلا جائے گا۔جس طرح خدا کی بادشاہت کو کوئی شخص بدل نہیں سکتا اس طرح خدا تعالیٰ کے کلام اور اس کے وعدہ کو بھی کوئی شخص بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔یہ زمین و آسمان کے خدا کا وعدہ ہے کہ بہر حال میری زندگی میں جماعت کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔میں نہیں جانتا کہ میرے بعد کیا ہو گا مگر بہر حال یہ خدائی فیصلہ ہے میری زندگی میں کوئی انسانی طاقت اس سلسلہ کی ترقی کو روک نہیں سکتی۔خدا نے اس جماعت اور سلسلہ کی ترقی کو میری ذات سے وابستہ کر دیا ہے اور اُس نے اپنے نام اور اپنی طاقت اور اپنے جلال کے اظہار کے لئے مجھے چن لیا ہے باوجود اس بات کے کہ میں ایک نہایت کمزور اور جاہل انسان ہوں خدا نے اپنے نام کی اشاعت اور اپنے جلال کے اظہار کو میرے نام کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے جس طرح لکڑی کے تختہ پر کوئی بادشاہ یا شہزادہ سوار ہو جائے تو جب لکڑی کا تختہ پانی میں تیرے گا لازماً با دشاہ بھی اُس کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر ہو گا اُس وقت کوئی شخص حقارت کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ اٹھنی کا