انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 276

انوار العلوم جلد ۱۸ تحریک جدید کی اہمیت اور اس کے اغراض و مقاصد پیدا نہیں ہو سکتا لیکن جس دن یہ جماعت پیدا ہو جائے گی اس دن تم میں سے ہر شخص عالم ہوگا تم میں سے ہر شخص عارف ہوگا اور تم میں سے ہر شخص کو خدا تعالیٰ اپنے پاس سے علم سکھائے گا۔ہم نے دیکھا ہے بعض دفعہ معمولی عورتوں کے منہ سے ایسی ایسی معرفت کی باتیں نکلتی ہیں کہ ان کو سُن کر دل خوشی سے اُچھلنے لگ جاتا ہے۔میں نے خود بعض جاہل اور ان پڑھ مردوں سے دین کے ایسے ایسے نکات سُنے ہیں کہ میں نے ان کا گھنٹوں اپنے دل میں مزہ اُٹھایا ہے کیونکہ ظاہری لحاظ سے جاہل اور ان پڑھ ہونے کے باوجود اُن کا خدا سے تعلق تھا اور خدا نے ان کو اپنے پاس سے علم سکھایا۔پس حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی چیز تعلق باللہ ہے جب کوئی شخص سچے دل سے خدا کا ہو جائے اور وہ اپنی تمام خواہشات اور ارادوں کو اس کے لئے ترک کر دے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے ضرور نئے علوم سکھائے جاتے ہیں اور وہ معرفت اور حکمت میں ترقی کرتے ہوئے کہیں کا کہیں جا پہنچتا ہے۔موجودہ بیماری میں مجھے جماعت کے متعلق سب سے زیادہ احساس اس بات کا رہا ہے کہ ہماری جماعت کے افراد کا خدا تعالیٰ سے ایسا مضبوط تعلق ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ خودا سے اپنے پاس سے علم سکھائے اور اس کی ہر ضرورت کو پورا کرے۔یہ بیماری عام طور پر لیبی چلتی اور بار بار دورہ کرتی ہے خصوصاً اس عمر میں جس میں سے میں گذر رہا ہوں۔اگر کسی کو یہ مرض ہو جائے تو عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ مرض دور نہیں ہوتا اس بناء پر میرے لئے یہ مسئلہ اس بیماری میں اور بھی اہم ہو گیا اور اس پر غور کرنا میرے لئے ضروری ہو گیا۔میں ہمیشہ ہی اس مسئلہ کو سوچتا رہا ہوں کہ آخر ایک دن ایسا آئے گا جب میرا کام ختم ہو جائے گا اس دن سے پہلے پہلے اگر میں اس اصلاح میں کامیاب ہو جاؤں جو جماعتی ترقی کے لئے ضروری ہے اور جس کے بعد جماعت کا قدم اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی تنزل کی طرف نہیں جا سکتا تو یہ میرے لئے انتہائی خوشی کا مقام ہوگا۔میں نے قدم بقدم خدا تعالیٰ سے دعا ئیں اور استمداد کرتے ہوئے مختلف راستے تجویز کئے اور رفتہ رفتہ میں نے ان راستوں کو جماعت کے سامنے پیش کیا مجھے خوشی ہے کہ جماعت نے میری اُن تجاویز پر ایک حد تک عمل کیا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو ایسی برکت عطا فرمائی کہ وہ اپنی تعداد اور اپنے وقار کے لحاظ سے کہیں سے کہیں جا پہنچی کجا تو