انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 244

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۴ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں لئے کوئی نہ کوئی سبیل پیدا کی ہوگی اور اُسے بندوں کے سہارے نہیں چھوڑا ہوگا۔وہ بہتری کی سبیل اور حقیقی اسلام کا رستہ آج احمدیت ہے۔لیکن اگر احمدیت بُری چیز ہے تو اللہ تعالیٰ کا فرض ہے کہ وہ اپنی غیرت دکھائے کیونکہ مخالفین کے نزدیک نَعُوذُ بِاللهِ احمدیت اُس کے دین میں رخنہ اندازی کر رہی ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی حفاظت کی ذمہ داری خود لی ہے۔جیسے فرمايا إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الروإنا له لحفظون ۵ مگر مولوی کہتے ہیں کہ قرآن کریم تو خدا نے بھیج دیا مگر اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے اور مسلمانوں کے لیڈر اس غرض کے لئے لیگیں ، انجمنیں اور ایسوسی ایشنیں بناتے ہیں۔ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ قرآن کریم کی حفاظت کر سکے۔دنیا میں یہ قاعدہ ہے کہ جو چیز دنیا میں موجود ہے وہ اپنے وجود کا خود پتہ دیتی ہے اور جو چیزیں موجود ہیں ان میں سے جو چیز طاقتور ہوگی وہ دوسری چیزوں پر غالب آ جائے گی۔جب وہ غالب آنے لگتی ہے تو دنیا بھی اس کا مقابلہ نہیں کرتی اور جو شخص کسی کام کا اہل یا کسی بوجھ کو اُٹھانے والا ہوتا ہے وہ خود بخود ہی میدانِ عمل میں آجاتا ہے۔پہلے مسلمانوں کے لیڈر اور مسلمانوں کے نمائندہ سرمیاں فضل حسین صاحب رے اُس وقت مسٹر جناح کے خیالات کا نگرسی تھے اور کانگرس کی تائید میں تھے اور مسلم لیگ کا دائرہ اُس وقت اتنا وسیع نہ تھا جتنا اب ہے۔کچھ عرصہ کانگرس میں کام کرنے کے بعد مسٹر جناح مسلم لیگ میں آ گئے اور آہستہ آہستہ اپنی قابلیت منواتے چلے گئے۔یہاں تک کہ تمام مسلمان لیڈران کے پیچھے لگ گئے اور وہ مسلم لیگ کے صدر بن گئے۔یہی حال انگریزی قوم کا ہے تمام قوم پچیس سال تک مسٹر چرچل کو دھتکارتی رہی کہ یہ لڑا کا ہے۔فساد کرتا ہے لیکن جب جنگ شروع ہوئی تو کیا لیبر اور کیا یونینسٹ اور کیا کنزرویٹو نے مسٹر چرچل کو اس کام کیلئے منتخب کیا۔تو جو شخص کسی کام کا اہل ہوتا ہے وہ آپ ہی آپ دوسروں پر چھا جاتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دین کے لئے بھی انسانوں کی حفاظت ضرورت نہ تھی بلکہ جس کے سپرد یہ کام تھا وہ خود ہی آگے آ جانا چاہئے تھا۔جب کسی چیز کے اُگنے کا موسم آ جائے اور وہ وقت پر آگ آئے تو ہم سمجھیں گے کہ اُس کا بیج زمین میں موجود تھا لیکن اگر با وجود موسم کے آجانے کے زمین سے کوئی چیز نہ اُگے ہم تو کہیں گے کہ اس میں کسی چیز کا بیج موجود نہ تھا اس لئے اس سے کوئی چیز نہیں اُگی