انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 245

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۲۴۵ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں اور اب اس میں بیج باہر سے ڈالا جائے گا۔اسی طرح اگر مسلمانوں کی خستہ حالی کے وقت مسلمان خودمل کر اس کا علاج کر لیتے تو ہم سمجھ سکتے تھے کہ اب خدا کی طرف سے کسی کے آنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر اپنی تمام کوششوں کے باوجود مسلمانوں پر خستہ حالی اور اسلام پر ادبار کے بادل چھائے رہیں تو ماننا پڑے گا کہ اب اس کا علاج کرنے والا کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی آئے گا کیونکہ مسلمان خود اس قابل نہیں رہے کہ وہ اسلام کو دوبارہ باقی ادیان پر غالب کر دیں۔کیا مسٹر جناح دنیا کے سارے مسلمانوں کے نگران ہو سکتے ہیں؟ اور کیا مسٹر جناح اسلامی دنیا کے تمام نقائص اور خرابیوں کو دور کر سکتے ہیں؟ کیا مسٹر جناح یا کوئی مسلمان نمائندہ آج پھر ایمان کو اُسی پہلی حالت میں قائم کر سکتا ہے جو حالت کہ قرونِ اولیٰ کی تھی؟ ہر انسان جو سوچ اور عقل سے جواب دے گا وہ یہی جواب دے گا کہ مسٹر جناح ہندوستان کے سیاسی لیڈر ہیں دنیا بھر کے مذہبی لیڈر نہیں ہیں۔یہ کام سوائے ایسے شخص کے نہیں ہو سکتا جو مَؤيَّد مِنَ اللَّهِ ہو اور جسے اللہ تعالیٰ خود مقرر کرے اور وہ تمام مسلمانوں کا نگران ہو۔مسلمانوں کے ہر مرض کا علاج کرنے والا اور مسلمانوں کی ہر تکلیف کا مداوا ہو، جو اسلام کو ادیان باطلہ پر غالب کرنے والا ہو۔آج ایسے ہی شخص کی ضرورت ہے۔پس جس طرح ہر چیز اپنے موسم میں پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح نبوت اور خلافت بھی اپنے وقت پر پیدا ہو جاتی ہیں اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی سنت کے خلاف ہے کہ ایک چیز کی اشد ضرورت محسوس کی جائے۔اُس کا موسم آ جائے ،لوگ اس کے لئے بے تاب ہوں لیکن اپنی طرف سے وہ چیز عطا نہ کرے۔بلکہ حقیقت یہی ہے کہ جس طرح دوسری چیزیں اپنے اپنے موسم میں پیدا ہوتی ہیں اسی طرح نبوت اور خلافت بھی اپنے اپنے وقت پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کر دی جاتی ہیں تا ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے بندے اُس کی قرب کی راہوں پر چلیں اور اُن تمام باتوں سے بچیں جو کہ اُس سے دور لے جاتی ہیں۔اور خلافت قوم میں چلتی چلی جاتی ہے جب تک قوم درست رہتی ہے لیکن جب قوم کے افراد میں غداری اور دغا بازی کی رُوح پیدا ہو جاتی ہے تو خلافت بھی مٹ جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ اُن سے یہ نعمت چھین لیتا ہے۔خدا تعالیٰ قوم کی حالت کو دیکھ کر خلیفہ مقرر کرتا ہے۔اگر قوم کے حالات درست ہوں تو خلافت دے دیتا ہے اور اگر درست نہ ہوں تو یہ انعام واپس لے لیتا ہے۔لوگ