انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 243

انوار العلوم جلد ۱۸ ۲۴۳ نبوت اور خلافت اپنے وقت پر ظہور پذیر ہو جاتی ہیں ہیں تو اُسے ان کا فکر ضرور ہوگا، اگر اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے تو ممکن نہیں کہ وہ اس کی نگرانی سے غافل ہو ، اگر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری کتاب ہے جولوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجی گئی تو ممکن نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا کوئی سامان نہ کیا ہو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا کے زمانے میں یمن کا علاقہ حبشہ کے ماتحت تھا اور چونکہ حبشہ ایک عیسائی ملک تھا اس لئے یمن کا گورنر بھی عیسائی ہوا کرتا تھا۔عبدالمطلب کے زمانہ میں یمن کے والی کا نام ابر ہ تھا۔یہ شخص کعبہ سے سخت دشمنی رکھتا تھا اور چاہتا تھا کہ کسی طرح عرب کے لوگوں کو کعبہ سے پھیر دے۔چنانچہ اس نے کعبہ کے مقابلہ پر یمن میں ایک معبد تیار کیا اور لوگوں میں تحریک کی کہ وہ بجائے کعبہ کے اس عبادت گاہ کے حج کے لئے آیا کریں۔عرب کی فطرت بھلا کب اس بات کو برداشت کر سکتی تھی۔ایک عرب نے غصہ سے جوش میں آ کر اس معبد میں پاخانہ پھر دیا۔ابرہہ کو اس بات کا علم ہوا تو اُس نے غصہ میں آ کر ارادہ کیا کہ مکہ پر فوج کشی کر کے کعبہ کو مسمار کر دے۔چنانچہ وہ ایک بڑے لشکر کے ساتھ یمن سے نکلا اور مکہ کے قریب پہنچ کر شہر کے سامنے اپنی فوجیں ڈال دیں۔جب قریش کو اس کا علم ہوا تو وہ سخت خوف زدہ ہوئے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ہم اس کے مقابلے کی تاب نہیں رکھتے۔چنانچہ انہوں نے عبدالمطلب کو ابرہہ کے پاس بطور وفد کے روانہ کیا۔وہ ابرہہ کے پاس گئے ابر ہہ ان کی باتوں اور ان کی نجابت سے بہت خوش ہوا اور ان سے بڑی عزت کے ساتھ پیش آیا اور اپنے ترجمان سے کہا کہ ان سے پوچھو میں اِن کو کیا انعام دوں؟ عبدالمطلب نے کہا کہ آپ کی فوج نے میرے دوسو اونٹ پکڑ لئے ہیں وہ مجھے دلوا دیئے جائیں۔اُس نے اونٹ تو واپس دلوا دیئے مگر منہ بنا کر کہا میں تمہارے کعبہ کو مسمار کرنے کے لئے آیا ہوں تم نے اس کی فکر نہ کی اور جھوٹے منہ بھی تم نے مجھے یہ نہ کہا کہ کعبہ کو نہ گرایا جائے اور تمہیں اپنے دو سو اونٹوں کی فکر لگ گئی۔عبدالمطلب نے جواب میں کہا۔میں تو صرف اونٹوں کا رب اور مالک ہوں مگر اس گھر کا بھی ایک مالک ہے وہ خود اس کی حفاظت کرے گا۔اگر مجھے اپنے اونٹوں کی فکر ہے تو کیا اسے اپنے اس گھر کی فکر نہیں ہے اسی طرح میں کہتا ہوں اگر واقعہ میں اسلام اللہ تعالیٰ کا دین ہے اور اگر قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے تو اللہ تعالیٰ نے یقیناً اس کی حفاظت اور اس کی بہتری کے