انوارالعلوم (جلد 18) — Page 139
انوار العلوم جلد ۱۸ ۱۳۹ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید بچے جو چل نہ سکتے تھے اُن کو کمر پر لا دتا اور باقی بچوں کی گردنوں میں ہاتھ ڈالے ہوئے ریوڑ کو ہانک کر باہر لے جاتا اور لاتا تھا۔اُس کا مالک بعض اوقات کسی وجہ سے اُسے گالیاں دیتا اور مارنے کے لئے بھی تیار ہو جاتا اور کہتا نالائق ! تم نے یہ کام نہیں کیا وہ کام نہیں کیا ، وہ اس سے بہت تنگ آ گیا اور ایک دن غصے میں آکر اُس نے سور کے بچے کو زور سے زمین پر پٹخ دیا اور کہا میرے باپ کے گھر میں صرف بھائی ہی تو نہیں کئی نو کر بھی ہیں اگر نوکری ہی کرنی ہے تو کیوں نہ میں باپ کے پاس چلا جاؤں اور اُس کی نوکری کرلوں ، وہ لوٹ کر اپنے باپ کی طرف آیا۔جب باپ کو پتہ لگا کہ میرا بیٹا واپس آ رہا ہے تو اُس نے اپنے تمام دوستوں کو جمع کیا اور اُس کے استقبال کے واسطے گیا اور اپنے گھر میں لے آیا۔اُس نے اِس خوشی میں کئی دنبے ذبح کئے اور لوگوں کو بلا کر اُن کی دعوت کی۔دوسرا بیٹا جو کما کے لایا تھا اُس کو بہت غصہ چڑھا اور اُس نے اپنے باپ سے کہا اے باپ! تیری بھی عجیب عقل ہے میں نے تیرے مال کو حفاظت سے رکھا، کمایا ، اُس کو بڑھایا اور پھر واپس لے کر تیرے گھر آیا لیکن تو نے میرے آنے پر ایک کمزور ڈ نبی بھی ذبح نہیں کی لیکن یہ جس نے تیرے مال کو ضائع کیا اور اس کو تلف کر دیا اور عیاشی میں اپنی عمر گزاری یہ آیا تو تو نے اس کا استقبال کیا اور کئی دُنبے ذبح کر ڈالے۔باپ نے کہا اے میرے بیٹے ! تو میرے پاس تھا جو چیز پاس ہوتی ہے اُس کی انسان خوشی نہیں کیا کرتے لیکن جو چیز گم ہو جاتی ہے اور پھر ملاتی ہے اُس کی خوشی کیا کرتے ہیں۔یہ گم ہوا تھا مجھے واپس ملا اس لئے میں نے خوشی کی ہے پھر حضرت مسیح نے فرمایا۔ایسا ہی خدا کو اُس شخص کے واپس آنے سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو گنہگار ہوتا ہے اور تو بہ کر کے اُس کے حضور میں حاضر ہو جاتا ہے۔اس مثال میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ جو چیز ہر وقت پاس موجود رہتی ہے اس کی وجہ سے طبیعت میں کوئی خاص تغیر پیدا نہیں ہوتا اور اس کی طرف خاص طور پر توجہ نہیں ہوتی لیکن جو گم جائے یعنی آنکھوں سے اوجھل ہو جائے چونکہ اس کا گم ہو جانا ہر وقت دل میں ٹیس پیدا کرتا ہے اس لئے جب بھی وہ زخم مندمل ہو تو قدر تا خوشی ہوتی ہے۔تو جو چیزیں کبھی کبھی سامنے آئیں اُن کی طرف توجہ زیادہ ہوتی ہے۔اسی طرح وہ حسیں جو کبھی کبھی کام کرتی ہیں وہ گہرا اثر چھوڑ جاتی ہیں یہ نسبت اُن جسوں کے جو ہرفت کا م کرتی ہیں۔