انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 138 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 138

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۱۳۸ قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید چیز توجہ کھینچنے والی نہیں ہوتی۔جس طرح میں تقریر کر رہا ہوں اور میری تقریر تمہاری توجہ کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے تو جو معتین سننا ہے وہ کبھی کبھی ہوتا ہے۔لیکن جب تک انسان جاگتا رہتا ہے آنکھیں کھلی رہتی ہیں اور کوئی نہ کوئی چیز ہر وقت آنکھ دیکھتی رہتی ہے جس کی وجہ سے آنکھ فوراً اثر اخذ نہیں کرتی۔لیکن کان کبھی کبھی سنتے ہیں اس لئے کان اس کو اخذ کرنے کے لئے اور دماغ اس کو حاصل کرنے کیلئے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔اسے دوسرے لفظوں میں یوں سمجھ لو کہ آپ کا ایک بڑا گہرا دوست آپ کو ملنے کیلئے آتا ہے اور السَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا ہے آپ وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ کہہ کر اپنا کام کرتے رہتے ہیں اور آپ کو اس کا خیال نہیں رہتا۔کچھ دیر کے بعد آپ کہتے ہیں اوہ! مجھے خیال نہیں رہا تھا آپ سے بات کرنے کا۔لیکن ایک اجنبی آدمی آتا ہے تو آپ اُس سے اس طرح نہیں کرتے جس طرح اپنے دوست کے ساتھ کیا تھا بلکہ آپ فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور اُسے تپاک سے ملتے ہیں اور پوچھتے ہیں آپ کہاں سے آئے؟ کیسے آئے؟ اس طرح دس ہیں باتیں کرتے ہیں اور پھر اُسے تپاک سے رُخصت کرتے ہیں تو نئے آنے والے کی قدر زیادہ ہوتی ہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ہماری جماعت کے کئی افراد جو زیادہ سمجھدار نہیں ہوتے وہ اس پر بگڑ جاتے ہیں کہ غیر کی خاطر کی اور ہماری نہیں کی وہ جانتے نہیں کہ یہ فطرتی اور طبعی امر ہے کہ انسان نئی چیز کی طرف نئی توجہ کرتا ہے اور اسے ایسا کرنا چاہیئے۔حضرت مسیح ناصری کی ایک مثال کیسی لطیف ہے۔آپ نے فرمایا کوئی شخص تھا اُس نے اپنے اموال دو بیٹوں میں تقسیم کر دیئے اور کہا بیٹو! جاؤ کماؤ اور کھاؤ! اُن میں سے ایک نے کہا باپ سے مال ملا ہے مفت کا ہے اس لئے آؤ خوب گل چھرے اڑائیں۔اُس نے عیاشی شروع کر دی اور خوب مال اُڑایا۔دوسرے نے کہا میرے باپ کا مال ہے اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔اُس نے روپیہ کمانا اور جمع کرنا شروع کر دیا۔حسب ضرورت کچھ گزارے کے لئے خرچ کرتا رہا اور باقی رقم جمع کرتا گیا آخر بہت سا روپیہ لے کر گھر واپس آیا۔باپ نے اُس کی بڑی تعریف کی اور عزت سے گھر میں بٹھایا اور اپنے دوسرے بیٹے کا انتظار کرتا رہا مگر دوسرا بیٹا سارا مال کھا چکا تھا وہ کونسا منہ لے کر باپ کے پاس جاتا ، وہ باپ کے پاس جانے کا خیال چھوڑ کر دُور نکل گیا اور کسی شخص کے ہاں سور کا گلہ چرانے پر نو کر ہو گیا ، روزانہ چھوٹے چھوٹے