انوارالعلوم (جلد 18) — Page 96
انوار العلوم جلد ۱۸ ۹۶ اسلام کا اقتصادی نظام آزادی کے دعوؤں کو دفن کر دے گا۔غرض اس وقت مقابلہ نہ ہونے کی وجہ سے کم سے کم قیمت پر مال پیدا کرنے کی روح سخت کمزور ہے اور آئندہ اور بھی کمزور ہوتی جائے گی۔اس وقت اُس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے ایک غریب عورت دن میں پانچ سیر دانے پیس لیتی ہے تو گھر والے خوش ہو جاتے ہیں کہ اس نے خوب کام کیا ہے اور وہی آٹا رات کو پکا کر کھا لیتے ہیں لیکن جب وہ باہر جا کر مزدوری کرتی ہے تب اُسے پتہ لگتا ہے کہ میں نے کتنا کام کیا ہے اور کتنا کام مجھے کرنا چاہئے تھا۔کیونکہ پانچ سیر دانوں کی پسپائی کے مقابل پر باہر مزدوری اُسے بہت زیادہ ملتی ہے۔اسی طرح جب تک روسی اپنی تیار کردہ اشیاء اپنے گھر میں استعمال کرتے رہتے ہیں یہ صحیح طور پر قیاس نہیں کیا جاسکتا کہ روس تجارتی طور پر بڑھ رہا ہے یا گھٹ رہا ہے۔اس وقت بظاہر ایسا نظر آتا ہے کہ روس اقتصادی طور پر کامیاب ہو رہا ہے لیکن جب اس کی صنعت بڑھے گی اُس وقت اس کا بھانڈا پھوٹ جائے گا اور اقتصادی طور پر وہ بالکل گر جائے گا۔لیکن اگر کامیاب ہو گیا تو اس کا ایک اور خطرناک نتیجہ نکلے گا جو ذیل کے ہیڈنگ کے نیچے بیان کیا گیا ہے۔کمیونزم کے نظام میں (۱۱) گیارہواں نقص کمیونزم نظام میں یہ ہے کہ اس کی بنیا دصرف ملکی ہمدردی پر ہے عالمگیر ہمدردی کا عالمگیر ہمدردی کا فقدان اصل اس میں نہیں ہے۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر روسی کمیونزم نظام صنعتی ترقی میں کامیاب ہو گیا تو وہ مجبور ہوگا کہ ایک زبردست کیپٹلسٹ نظام جو پہلے نظام سے بھی بڑا ہو اور دنیا کیلئے پہلے نظام سے بہت زیادہ خطرناک ہو قائم کرے۔میں حیران ہوں کہ اتنے اہم سوال کی موجودگی میں ہمارا تعلیم یافتہ طبقہ کمیونزم کی حمایت کس بناء پر کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ روس نے اجتماعی سرمایہ داری کو ایک عظیم الشان شکل میں پیش کیا ہے اور اس سے دنیا کو آخر بہت نقصان پہنچے گا۔روس میں اور دوسرے ممالک میں جو کمیونسٹ ہیں وہ اس بات پر خوش ہوتے ہیں کہ کمیونزم نے ہر شخص کی روٹی اور کپڑے کا انتظام کر دیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہاں تک روٹی اور کپڑے کا سوال ہے ہم بھی خوش ہیں کہ لوگوں کی اس ضرورت کو پورا کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ہی اُس عظیم الشان خطرہ کوکسی