انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 97 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 97

انوارالعلوم جلد ۱۸ ۹۷ اسلام کا اقتصادی نظام صورت میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو ایک نئے کیپیٹل سسٹم CAPITAL SYSTEM) کی صورت میں دنیا کے سامنے آنے والا ہے۔روس کا دعوی ہے کہ اُس نے ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ء تک اپنے ملک کی صنعتی پیداوار کو ۶۲۶ فیصدی بڑھا دیا ہے۔یعنی پہلے اگر ایک ارب تھی تو اب چھ ارب پچیس کروڑ ہے۔پہلے اگر سو موٹر روس میں بنتا تھا تو اب ۶۲۵ موٹر بنتا ہے یا پہلے اُس کے کارخانوں میں اگر ایک لاکھ تھان کپڑے کا تیار ہوا کرتا تھا تو اب چھ لاکھ پچیس ہزار تھان بنتا ہے۔یہ ترقی واقعہ میں ایسی ہے جو قابل تعریف ہے۔روسی کمیونزم کا یہ بھی دعوئی ہے کہ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۳۷ ء تک دس بلین رو بلز سے اس کا صنعتی سرمایہ پچہتر بلین روبلز تک بڑھ گیا ہے ( روبل کی موجودہ قیمت بہت تھوڑی ہے ) گویا اس عرصہ میں اُس نے ساڑھے سات گنا اپنا سرمایہ بڑھالیا ہے اور سو اچھ سو گنا اُس نے اپنی صنعتی پیداوار کو بڑھا لیا ہے۔اُس کا یہ بھی دعوی ہے کہ صرف ۱۹۳۷ء میں اُس نے اپنی ملکی آمد کا ۱/۳ حصہ کارخانوں کی ترقی پر لگایا ہے یہ بھی بڑی شاندار ترقی ہے۔مگر ایک بات پر غور کرنا چاہئے کیا روس بغیر دوسرے ملکوں سے تجارتی لین دین کرنے کے ہمیشہ کیلئے ایک بند دروازہ کی پالیسی پر عمل کر کے اپنی اس ترقی کی رفتار کو جاری رکھ سکتا ہے؟ اِس وقت تو صورت یہ ہے کہ روس نہ بیرونی ملکوں کو اپنی بنی ہوئی چیزیں بھیجتا ہے اور نہ الا مَا شَاءَ اللهُ باہر سے کوئی چیزیں لیتا ہے۔وہ اگر باہر سے کوئی چیز منگواتا ہے تو صرف اتنی جس سے اُس کے کارخانوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔گویا روس کی مثال اس وقت ایسی ہی ہے جیسے ہندوستان کا کسان اپنی زمین پر گزارہ کرتا ہے۔اُس کے کچھ حصہ سے گڑ پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے ماش پیدا کر لیتا ہے، کچھ حصہ سے چاول پیدا کر لیتا ہے ، کچھ حصہ سے تل پیدا کر لیتا ہے ، کچھ حصہ سے گندم پیدا کر لیتا ہے اور اس طرح اپنی زندگی کے دن گزارتا رہتا ہے۔مگر یہ صورتِ حالات تمدن کے ہر درجہ میں قائم نہیں رہ سکتی۔اگر یہ صورت تمدن کے ہر درجہ میں جاری رہ سکتی تو وہ جھگڑے جو آج دنیا کے تمام ممالک میں نظر آ رہے ہیں اور جن کی وجہ سے عالمگیر جنگوں تک نوبت آ چکی ہے کیوں پیدا ہوتے۔بہر حال یہ صورت متمدن ممالک میں قائم نہیں رہ سکتی۔