انوارالعلوم (جلد 18) — Page 95
انوار العلوم جلد ۱۸ ۹۵ اسلام کا اقتصادی نظام گئے۔اسی طرح روس میں جب بھی ڈھیل ہوئی اور لوگوں کو آمد و رفت کی آزادی ملی وہاں کے موجد با ہر نکلیں گے اور غیر ممالک میں بس کر اپنی دفاعی قابلیتوں سے فائدہ اُٹھانا شروع کر دیں گے یا پھر بیرونی ملکوں سے میل جول کے بند ہونے کی وجہ سے روسی دماغ میں کمزوری آنی شروع ہو جائے گی اور آخر وہ ایک کھڑے پانی کے تالاب کی طرح سٹر کر رہ جائے گا۔روسی صنعت میں تنزل کا خطرہ (۱۰) دسواں نقص کمیونسٹ نظام میں یہ ہے کہ چونکہ اس وقت کھانا اور کپڑا وغیرہ حکومت کے سپرد ہے اور صنعت و حرفت بھی اُس کے سپرد ہے اور امپورٹ (IMPORT) اور ایکسپورٹ (EXPORT) بھی اس کے قبضہ میں ہیں اور جس ملک میں وہ قائم ہوئی ہے وہ صنعت میں بہت پیچھے تھا اس لئے فوراً حقیقی نتائج معلوم نہیں ہو سکتے مگر عقلاً یہ امر ظاہر ہے کہ جب تک صرف اس قدر صنعت وہاں ہے کہ ملک کی ضرورت کو پورا کرے نقصان کا پتہ نہیں لگ سکتا۔جس قیمت پر بھی چیز بنے بنتی جائے گی اور ملک میں کھپتی جائے گی اُس کے مہنگا ہونے کا علم نہیں ہوگا۔جب تک وہاں کا رخانے صرف روسیوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں اُس وقت تک یہ پتہ نہیں لگ سکتا کہ کارخانے نفع پر چل رہے ہیں یا نقصان کی طرف جا رہے ہیں۔وجہ یہ ہے کہ جس قیمت پر بھی کوئی چیز تیار ہوتی ہے وہ ملک میں کھپ جاتی ہے مگر ایک وقت آئے گا کہ صنعت مُلک کی ضرورت سے زیادہ بڑھنے لگے گی اگر اُس وقت صنعت کو روکا گیا تو اس میں تنزل شروع ہو جائے گا۔اور اگر بڑھنے دیا گیا تو اس صورت میں یہ امر لازمی ہوگا کہ روسی صنعت کی اشیاء دوسرے ملکوں کو بھجوائی جائیں تب یہ بھی ضروری ہوگا کہ روسی صنعت کی اشیاء کی وہی قیمت مقرر کی جائے جس پر وہ باہر کی منڈیوں میں فروخت ہوسکیں۔اگر اس مجبوری کے ماتحت روسی پیداوار کو اس کی لاگت سے کم قیمت پر فروخت کیا گیا تو گویا روسی صناع غیر ملکوں کا غلام بن جائے گا کہ رات دن محنت کر کے لاگت سے کم قیمت پر انہیں اشیاء مہیا کرے گا لیکن اگر ایسا نہ کیا گیا تو لا ز ما ملک کی صنعت ایک حد تک ترقی کر کے رُک جائیگی۔یا پھر روس کو امپیریلزم کا طریق اختیار کرنا ہوگا یعنی دوسرے ملکوں کو قبضہ میں لا کر اُن پر مصنوعات ٹھونسنی پڑیں گی اور اس طرح خود اپنے ہاتھ سے روس اپنی