انوارالعلوم (جلد 18)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 570 of 681

انوارالعلوم (جلد 18) — Page 570

۵۷۰ انوارالعلوم جلد ۱۸ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو طاقت کے لحاظ سے مدینہ کو قیصر کی فوجوں سے کوئی نسبت ہی نہ تھی اور روحانی لحاظ سے قیصر کی فوجوں کو مدینہ سے کوئی نسبت نہ تھی۔اُس زمانہ میں قیصر کی سلطنت بہت وسیع تھی اور یورپ سے ایران تک کا سارا علاقہ اس کے ماتحت تھا۔ادھر افریقہ میں ایبے سینیا اور مصر وغیرہ اس کے باج گزار کے تھے اور قیصر کی اپنی فوجیں تو الگ رہیں اس کے ماتحتوں کے پاس بھی چالیس چالیس، پچاس پچاس ہزار فوج تھی اور سامانِ جنگ بھی بہت زیادہ تعداد میں تھا۔ادھر مسلمانوں کی فوج کو کیا بلحاظ تعدا د اور کیا بلحاظ سامانِ جنگ ان فوجوں سے کوئی نسبت نہ تھی۔قیصر کے مدینہ پر حملہ کی خبر سن کر کمزور مسلمان تو ڈر رہے تھے لیکن مؤمن اپنے دلوں میں یہ کہہ رہے تھے کہ اس خطرے کے وقت جو قربانیاں کرنے کا مزہ آئے گا وہ اور کہاں آ سکتا ہے اسی موقع پر حضرت ابو موسیٰ اشعری بھی ہجرت کر کے پا پیادہ جوش ایمان کی وجہ سے آگئے تھے ان کے پاس نہ سواری تھی اور نہ دولت وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہايَا رَسُولَ اللہ! ہمیں بھی ثواب کا موقع مل جائے ہم بھی جنگ میں شامل ہونا چاہتے ہیں لیکن ہمارے پاس تو سواریاں نہیں اس لئے ہمیں کوئی چیز دی جائے جس کے ذریعہ آسانی کے ساتھ ہم سفر کرسکیں۔ان کے الفاظ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے سواری ہی مانگی تھی لیکن بعد میں جب کسی شخص نے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ ہم نے سواری نہیں بلکہ چپلیاں مانگی تھیں تا کہ ہم سنگلاخ راستوں پر سفر کر سکیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ انہوں نے مانگی تو چپلیں ہوں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہو کہ یہ سواری مانگ رہے ہیں اور یہ بھی ممکن ہے انہوں نے سواری ہی مانگی ہو مگر ان کے ذہن میں جو اقل ترین مطالبہ ہو وہ چپلوں ہی کا ہو۔غرض اُنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں سفر کی سہولت کے لئے کوئی چیز دی جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی سواری نہ تھی۔آپ نے فرمایا میرے پاس سواری کا کوئی انتظام نہیں انہوں نے پھر اصرار کیا مگر آپ نے فرمایا کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں۔اُنہوں نے پھر عرض کیا یا رَسُولَ اللهِ ! ہمیں کیوں ثواب سے محروم کرتے ہیں۔آپ نے فرمایا میرے پاس سواری ہے ہی نہیں تو دوں کہاں سے مگر انہوں نے پھر بھی اصرار کیا اور کہایا رَسُولَ اللہ ! آپ تو بادشاہ ہیں بھلا آپ کے