انوارالعلوم (جلد 18) — Page 569
انوار العلوم جلد ۱۸ ۵۶۹ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو یہ لطیفہ ہے تو احمقانہ مگر اس کے اندر ایک حد تک صداقت بھی موجود ہے اور وہ اس طرح کہ ایک وقت انسان پر ایسا آتا ہے کہ وہ اونٹ قربان کرنے کو تیار ہو جاتا ہے لیکن کوئی وقت ایسا بھی آتا ہے کہ وہ جوں بھی قربان نہیں کر سکتا۔یہ دور کم و بیش ہر انسان پر ضرور آتے ہیں اور شاید ہی کوئی انسان ہو جوان حالتوں میں سے نہ گزرا ہو۔ایک وقت انسان حیرت انگیز قربانی کے لئے آمادہ ہو جاتا ہے مگر دوسرے وقت ایک پیسہ بھی خدا کی راہ میں خرچ کرنا دو بھر سمجھتا ہے اور کبھی انسان کے حالات میں ایسا تغیر آ جاتا ہے کہ اُسے قربانی کرنے کی توفیق ہی نہیں رہتی۔مثلاً ایک شخص کے پاس سو روپیہ موجود ہے اور اس کے دل میں نیکی کا ارادہ بھی ہے مگر وہ اپنے دل میں کہتا ہے چلو پھر نیکی کر لوں گا اس وقت فلاں سودا کر لوں مگر بعد میں اُس پر ایسا وقت آتا ہے کہ چاہے وہ نیکی کرنا چاہے اُس کے حالات اس قسم کے ہوتے ہیں کہ وہ نیکی کرنے کے قابل نہیں رہتا۔پہلی مثال تو دل کی کیفیات بدلنے کی تھی مگر یہ مثال حالات بدلنے کی ہے کہ اس نے نیکی کے موقع کو ضائع کر دیا اور التوا ہو جانے سے اُس کے حالات بدل گئے اور وہ مفلس اور کنگال ہو گیا۔اُسے چاہئے تھا کہ جب اس پر نیکی کا دور آیا تھا اُسے قبول کرتا اور اُس سے فائدہ اُٹھا تا اور دُوراندیشی سے کام لیتے ہوئے اس بات کو سوچتا کہ ممکن ہے کہ کل یہ دور بدل جائے اور میرے اندر نیکی کرنے کی استعداد نہ رہے۔پھر بعض لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے قلوب میں نیکی تو ہوتی ہے مگر وہ اپنے خیالات کے ماتحت کھجور سے اُترنے والے پٹھان کی طرح اُس کے دور کو تو جیہات سے ملا دیتے ہیں مگر مؤمن کا کام ہے کہ جب اس کو نیکی کا دور ملے وہ اس سے جتنی جلد ہو سکے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرے تا کہ التواء ہونے کی وجہ سے نیکی سے محروم نہ رہ جائے۔مؤمن کی یہ حالت ہوتی ہے کہ بسا اوقات وہ اپنے حالات کے ماتحت ایک ادنی نیکی کا ارادہ کرتا ہے مگر بعد میں اس کے حالات بدل جاتے ہیں اور اُسے اعلیٰ نیکی کی توفیق مل جاتی ہے تو وہ اعلیٰ قسم کی نیکی کرتا ہے اور جس نیکی کا اس نے پہلے ارادہ کیا تھا اُس کو ادنیٰ ہونے کی وجہ سے ترک کر دیتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں جب غزوہ تبوک ہوا تو اُس وقت یہ خبر مشہور ہوئی تھی کہ قیصر کی فوجیں جمع ہو رہی ہیں جو مدینہ پر حملہ کریں گی۔اُس وقت یہ حالت تھی کہ ایک طرف شاہی لشکر تھا اور دوسری طرف مؤمنین کی ایک چھوٹی سی جماعت۔گویا جسمانی اور ظاہری