انوارالعلوم (جلد 18) — Page 571
انوارالعلوم جلد ۱۸ ۵۷۱ نیکی کی تحریک پر فورا عمل کرو پاس سواری کیوں نہ ہوگی۔آپ نے جب دیکھا کہ یہ ٹلنے والے نہیں ہیں تو فرمایا خدا کی قسم ! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔اس پر ابو موسیٰ اشعری مایوس ہو کر واپس آگئے مگر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ کسی مخلص نے لڑائی کے لئے دو اونٹ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کئے اور عرض کیا کہ کئی ایسے مسلمان ہیں جن کے پاس سواریاں نہیں ہیں ایسے آدمیوں کو یہ اونٹ دے دیں۔آپ نے پھر ابو موسیٰ اشعری اور ان کے ساتھیوں کو بلا یا اور وہ دونوں اونٹ انہیں دے کر فرمایا باری باری سے ان پر سوار ہوتے جانا۔وہ اونٹ لے کر چلے گئے مگر تھوڑی دیر کے بعد انہیں خیال آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا اور اب دے دی ہے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کھول گئے ہیں اور آپ کی قسم ٹوٹ گئی ہے اور اگر آپ کی بھول سے ہم نے فائدہ اُٹھایا تو ہمارا انجام خراب ہوگا اس لئے ہمیں سواریاں واپس کرنی چاہئیں۔چنانچہ وہ واپس آپ کے پاس آئے اور عرض کیا یا رَسُولَ اللَّهِ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دو گا مگر اب آپ نے دے دی ہے اس لئے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بھول گئے ہیں۔آپ نے فرمایا مجھے قسم تو یاد ہے مگر بات یہ ہے کہ میں قسم کھاؤں یا قسم کے بغیر کوئی ارادہ کروں جب زیادہ ثواب کا موقع آ جائے تو میں اپنے ارادہ میں تبدیلی کر لیتا ہوں میں اپنی قسم کی وجہ سے کسی کو ثواب سے محروم نہیں کرنا چاہتا میں جب کوئی ارادہ کرتا ہوں تو جب اس سے زیادہ بہتر ارادہ میرے دل میں آ جائے تو اُسی پر عمل کرتا ہوں کیونکہ اصل غرض تو نیکی ہے جب زائد نیکی کا موقع مل جائے تو اُس کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔سے اب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس سواری تھی ہی نہیں تو آپ نے یہ قتسم کیوں کھائی کہ خدا کی قسم! میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔قرآن کریم ، احادیث اور تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ در حقیقت آپ کے پاس سواری تھی ہی نہیں اور قسم کے معنی یہ ہیں کہ کوئی چیز موجود ہو اور دینے سے انکار کر دیا جائے۔اب کیا کوئی یہ قسم کھا سکتا ہے کہ میں چاند کے پاس نہیں جاؤں گا یا میں سورج کے پاس نہیں جاؤں گا یا کوئی یہ قسم کھاتا ہے کہ میں ایک ہی دفعہ ہاتھی نہیں نگلوں گا۔اسی طرح سوال یہ ہے کہ جب آپ کے پاس سواری ہی نہ تھی تو آپ نے قسم کیوں کھائی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ غیر متمدن اور غیر مہذب لوگ دوسرے کی بات کا اعتبار