انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 566 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 566

انوار العلوم جلد کا الموعود بصرہ ہسپتال میں اپنے علاج کے لئے داخل ہوا تھا ، اُس سے ہسپتال کے ڈاکٹر نے پوچھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں کا کیا حال ہوا ؟ تو اُس نے بتایا کہ وہ سخت زخمی تھے اور غالباً مارے گئے ہیں۔اُس نے چونکہ اُن کو خون میں لتھڑا ہوا دیکھا تھا ، اس لئے کچھ بات اپنے پاس سے ملا کر کہہ دیا کہ وہ غالبا مرچکے ہیں۔اُس ڈاکٹر نے اپنے ایک دوست کو جو دھرم سالہ چھاؤنی ہسپتال میں کام کرتا تھا ، اطلاع دی کہ ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے متعلق معلوم ہوا ہے کہ وہ مارے گئے ہیں۔دھرم سالہ میں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کے ماموں اور اُن کے سُسرال تھے۔انہیں اُس ڈاکٹر سے اس بات کا علم ہوا اور پھر رفتہ رفتہ یہ بات قادیان میں مجھ تک پہنچ گئی۔اُن کے والد صاحب نے گورنمنٹ کو لکھا تھا کہ ڈاکٹر مطلوب خاں کے بارہ میں کیا اطلاع ہے۔گورنمنٹ نے جواب دیا کہ اُن کی موت کی خبر مصدقہ نہیں وہ مسنگ لسٹ (MISSING LIST) پر ہیں۔کچھ عرصہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کئے کہ گورنمنٹ برطانیہ کے ہوائی جہاز اس علاقہ میں گئے جہاں وہ قید تھے اور اُنہوں نے اوپر سے بمباری کی۔ساتھ ہی انگریزی فوج کی کمک بھی پہنچ گئی اور وہاں دو دن تک سخت مقابلہ ہوا۔تیسرے دن برطانیہ کو فتح ہوئی۔اُس وقت ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں، میں نے عرب شیخ سے کہا کہ اب وہ مجھے چھوڑ دے۔اُس نے کہا دو تین دن تک ٹھہرو میں تمہیں گھوڑے پر سوار کر کے بھیجوں گا۔مگر میں نے کہا کہ مجھے پیدل چلنے میں کوئی تکلیف نہیں۔آخر اُس نے ایک شخص کے ہمراہ بہت خاطر مدارات کے ساتھ انہیں واپس کیا اور اس طرح ایک مُردہ خدا تعالیٰ کے فضل سے زندہ ہو گیا۔اب دیکھو ایک شخص کے متعلق خبر آتی ہے کہ وہ مارا گیا ہے۔گورنمنٹ بھی شک میں پڑی ہوئی ہے اور وہ کہتی ہے کہ ہم نے اس کا نام مسنگ لسٹ میں رکھا ہوا ہے، ہمیں معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا مر چکا ہے۔مگر خدا تعالیٰ بتاتا ہے کہ وہ چند دنوں کے بعد زندہ ہو جائے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوتا ہے۔کچھ عرصہ کے بعد وہاں ہوائی جہاز پہنچتے ہیں ، وہ بمباری کرتے ہیں اور اس طرح انہیں آزاد ہونے کا موقع مل جاتا ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اُس کی طاقت کا کیسا زندہ نشان ہے اور کس طرح اُس نے ایک مُردہ کو زندہ کر کے دکھا دیا۔