انوارالعلوم (جلد 17) — Page 565
انوار العلوم جلد کا الموعود ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب چند دن کے بعد پھر زندہ ہو گئے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسے سامان کئے کہ بعد میں گورنمنٹ کی طرف سے اطلاع آ گئی کہ ڈاکٹر مطلوب خان صاحب کی موت کی خبر غلط ہے ، وہ زندہ ہی ہیں۔چونکہ انہیں عرب لوگ قید کر کے لے گئے تھے اور اس پارٹی کے قریب تمام آدمیوں کو عربوں نے قتل کر دیا تھا ، اس لئے اُن کو بھی مردہ سمجھ لیا گیا تھا ورنہ دراصل وہ زندہ تھے۔پہلے میری سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ اُن کی موت کی خبر کس طرح مشہور ہوگئی مگر اترسوں ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کو بلا کر میں نے اُن سے تفصیلی حالات پوچھے تو مجھے اس حقیقت کا علم ہوا۔اُنہوں نے بتایا کہ ۱۹۲۰ ء میں جب عراق میں بغاوت ہوئی تو مجھے ناصریہ سے جہازوں کے ایک قافلہ کے ہمراہ دریائے فرات کی طرف روانہ کیا گیا تا کہ ایک فوجی جہاز گرین فلائی جو دریائے فرات کے کنارہ پر ریت میں پھنس گیا تھا اور ایک ماہ سے اُس کے آدمی بغیر راشن کے تھے اُن کو ضروری راشن اور روپیہ وغیرہ دیا جائے اور اگر ہو سکے تو جہاز کو بھی کھینچ کر نکالا جائے۔اسی طرح سماوہ میں ایک انگریزی فوج گھری ہوئی تھی اس کو بھی راشن ، روپیہ اور گولہ با رود پہنچانا ہمارا کام تھا۔وہ کہتے ہیں راستہ میں عربوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس سے جہاز کے چند آدمی خطرناک طور پر زخمی ہو گئے۔اُن کو مرہم پٹی کرتے وقت میرا جسم بھی خون سے لتھڑ گیا بلکہ کارتوسوں کے کچھ چھترے میرے جسم پر بھی لگے جن سے خون جاری ہو گیا۔دوسرے جہاز جو ساتھ آئے تھے وہ بھی اِس جہاز کو چھوڑ کر آگے نکل گئے۔عربوں نے جب دیکھا کہ یہ جہاز ا کیلا کنارے پر رہ گیا ہے تو وہ اپنے مورچوں سے باہر نکل آئے اور پھر تختہ جہاز پر چڑھ کر ٹوٹ مچادی۔کسی کو منجر سے مارا ، کسی کو گولی سے اور کسی کو تلوار سے اور جس قد رسامان تھا سب لوٹ لیا۔ڈاکٹر مطلوب خاں کہتے ہیں میں نے ایک عرب کی جو ایک گاؤں کا شیخ تھا ، پناہ لی اور آخر جہاز سے اُنہوں نے مجھے نکالا اور قید کر کے اپنے ساتھ لے گئے۔چونکہ جہاز میں زخمیوں کی مرہم پٹی کرتے وقت اور کچھ گولیوں کی بوچھاڑ کی وجہ سے ڈاکٹر مطلوب خاں صاحب کا جسم سر ، پیر تک لہولہان ہو گیا تھا اس لئے ایک جمعدار نے جو وہاں سے بھاگ نکلا تھا اور زخمی ہو کر