انوارالعلوم (جلد 17) — Page 549
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۴۹ الموعود غیر مبائعین کی ایک اور عبرتناک نا کامی (۲) پھر میری خلافت کے جنت جب مسجد نور میں جماعت کے لوگوں نے میری بیعت کی۔انہوں نے الوصیۃ“ کے ایک حوالہ کے ماتحت جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ جس شخص کی نسبت چالیس مومن اتفاق کریں گے کہ وہ اس بات کے لائق ہے کہ میرے نام پر لوگوں سے بیعت لے۔وہ بیعت لینے کا مجاز ہوگا۔‘۳۷ے کوشش کی کہ میرے مقابل میں کسی کو خلیفہ بنالیں۔اس حوالہ کے تو اور معنی ہیں مگر بہر حال انہوں نے جب دیکھا کہ لوگ کسی طرح خلافت کو چھوڑ نہیں سکتے تو انہوں نے چاہا کہ ہم بھی مقابل میں ایک خلیفہ بنا لیں۔چنانچہ ماسٹر عبدالحق صاحب جنہوں نے پہلے پارے کا انگریزی میں ترجمہ کیا تھا اور جنہوں نے شروع میں میری بیعت نہ کی تھی بلکہ وہ ان لوگوں کے ساتھ تھے ، بعد میں بتایا که مولوی صدرالدین صاحب رات کے وقت ہاتھ میں لالٹین لے کر دو ہزار احمدیوں کے مکانوں پر ماسٹر عبدالحق صاحب اور ایک اور صاحب سمیت چکر لگاتے رہے کہ چالیس آدمی ہی اس خیال کے مل جاویں مگر اتنے آدمی بھی اُن کو نہ ملے جو اُن کا ساتھ دیتے بلکہ اُن کی روایت تھی کہ صرف تیرہ آدمی ملے جو اس خیال کے حامی تھے ، چالیس کی تعداد پوری نہ ہوئی۔اب دیکھو یہ خدا تعالیٰ کی کیسی عظیم الشان قدرت ہے کہ اُس وقت سارا کام ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا۔انجمن پر ان کا قبضہ تھا ، تصانیف ان کے ہاتھ میں تھیں ، عہدے ان کے قبضہ میں تھے۔مگر سارا زور لگا کر قادیان میں سے تیرہ سے زیادہ آدمی نہ نکلے جو اس بات پر متفق ہوں کہ میرے مقابل میں کسی اور کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔انہوں نے اس غرض کے لئے سید عابد علی شاہ صاحب کا نام تجویز کیا تھا اور فیصلہ کیا تھا کہ اُن کی خلافت کے لئے چالیس آدمی تیار کئے جائیں۔مگر اللہ تعالیٰ نے اُن کو نہ صرف اِس طرح شرمندہ کیا کہ اتنے بڑے مجمع میں سے ساری رات گشت لگانے کے باوجود چالیس آدمی بھی نہ مل سکے اور وہ نا کام اپنے گھروں کو واپس لوٹے بلکہ خدا نے اُن کو اس طرح بھی شرمندہ کیا کہ آخر سید عابد علی شاہ صاحب نے میری بیعت کر لی۔مگر بعد میں اُن کو جنون ہو گیا اور دماغی نقص کی وجہ سے انہوں نے نبوت کا دعوی کر دیا اور اعلان کر دیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ میرے گھر میں طاعون نہیں آئے گی لیکن اِس