انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 550 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 550

انوار العلوم جلد ۱۷ الموعود اعلان کے بعد وہ خود ہی طاعون سے مر گئے۔غرض قوم کے لیڈر میرے مقابل میں کھڑے ہوئے جن کے ہاتھ میں سلسلہ کا خزانہ تھا اور جن کا جماعت کے قلوب پر اس قدر رُعب تھا کہ اسی مسجد نور میں کھڑے ہو کر ایک دفعہ مولوی محمد علی صاحب نے جماعت کے سامنے چندے کی تحریک کی تو بعض احمد ی اُٹھ کر کسی کام کے لئے باہر جانے لگے۔مولوی محمد علی صاحب جن کی طبیعت جو شیلی ہے یہ دیکھ کر غصہ میں آگئے اور کہنے لگے اب میں نے چندے کی تحریک کی ہے تو تم بھاگنے لگے ہو۔یا د رکھو کہ میں تم سے جونیوں سے چندہ وصول کروں گا۔اِن الفاظ سے اُن کے اخلاق کا جو نمونہ ظاہر ہوتا ہے وہ تو عیاں ہی ہے لیکن میں جس بات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ انہوں نے اتنے سخت الفاظ جماعت کو مخاطب کر کے کہے مگر کسی ایک شخص نے بھی چوں تک نہیں کی اور سب خاموش رہے۔غرض اُن کا اُس وقت اتنا رعب تھا اور اس قدر رسوخ اُن کو حاصل تھا کہ جماعت کے معززین کو اگر وہ یہ بھی کہہ دیتے کہ میں جوتیاں مار کر تم سے چندہ وصول کروں گا تو پھر بھی وہ خاموش رہتے تھے۔تاریخوں میں لکھا ہے۔نپولین کو ایک دفعہ شکست ہوئی۔اُس کی فوج کے سپاہی اور جرنیل بھاگتے چلے آ رہے تھے کہ راستے میں ایک جرنیل نے کہا۔وہ جرمن فوج آگئی۔جرمن فوج واقعہ میں پیچھے سے آ رہی تھی اور اُس نے جو کچھ کہا درست تھا مگر نپولین نے اُسے جواب دیا۔گتا ! تم کو ہر وقت جرمن ہی نظر آتے ہیں۔وہ کہتا ہے اگر میرا باپ بھی مجھے یہ الفاظ کہتا تو میں اُسی وقت تلوار اُس کے پیٹ میں گھونپ دیتا۔مگر نپولین کیلئے ہم کہتے ہی تھے وہ ہمیں بُوٹ مارتا اور ہم اُس کے پاؤں چاہتے۔شریف اور معزز احمدی سامنے بیٹھے ہیں اور مولوی محمد علی صاحب کہتے ہیں کہ میں جوتیاں مار مار کر تم سے چندہ وصول کروں گا۔بعد میں بعض احمد یوں نے مجھے یہ بات پہنچائی تو میں نے کہا میں امید نہیں کرتا کہ اُنہوں نے یہ الفاظ کہے ہوں مگر کئی لوگوں نے شہادت دی کہ واقعہ میں انہوں نے یہ الفاظ کہے تھے۔غرض وہ شخص جسے اتنا بڑا رعب حاصل تھا میرے مقابل میں آیا تو