انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 548

انوار العلوم جلد ۷ ۵۴۸ الموعود حیرت ہوئی کہ وہ بچہ ہے کون جس کے متعلق یہ الفاظ کہے جا رہے ہیں۔چنانچہ میں نے باہر نکل کر غالباً شیخ یعقوب علی صاحب سے پوچھا کہ آج مسجد میں یہ کیسا شور تھا اور شیخ رحمت اللہ صاحب یہ کیا کہہ رہے تھے کہ ایک بچہ کی خاطر یہ سارا فساد برپا کیا جا رہا ہے۔وہ بچہ ہے کون جس کی طرف شیخ صاحب اشارہ کر رہے تھے؟ وہ مجھے ہنس کر کہنے لگے وہ بچہ تم ہی تو ہو اور کون ہے۔گویا میری اور اُن کی مثال ایسی ہی تھی جیسے کہتے ہیں کہ ایک نا بینا اور بینا دونوں کھانا کھانے بیٹھے۔نابینا نے سمجھا کہ مجھے تو نظر نہیں آتا اور اسے سب کچھ نظر آتا ہے، لازماً یہ مجھ سے زیادہ کھا رہا ہو گا۔چنانچہ یہ خیال آتے ہی اُس نے جلدی جلدی کھانا ، کھانا شروع کر دیا۔پھر اُسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اس نے دیکھ لی ہوگی اور اب یہ بھی جلدی جلدی کھانا کھانے لگ گیا ہوگا میں کیا کروں؟ چنا نچہ اُس نے دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا۔پھر سمجھا کہ اب یہ بھی اس نے دیکھ لیا ہوگا اور اس نے بھی دونوں ہاتھوں سے کھانا شروع کر دیا ہوگا ، میں اب کس طرح زیادہ کھاؤں؟ اس خیال کے آنے پر اُس نے ایک ہاتھ سے کھانا شروع کیا اور دوسرے ہاتھ سے چاول اپنی جھولی میں ڈالنے شروع کر دیئے۔پھر اُسے خیال آیا کہ میری یہ حرکت بھی اُس نے دیکھ لی ہوگی اور اُس نے بھی ایسا ہی کرنا شروع کر دیا ہوگا۔یہ خیال آنے پر اُس نے تھالی اُٹھالی اور کہنے لگا بس اب میرا حصہ ہی رہ گیا ہے تم اپنا حصہ لے چکے ہو اور اُس بیچارے کی یہ حالت تھی کہ اُس نے ایک لقمہ بھی منہ میں نہیں ڈالا تھا۔وہ اس نابینا کی حرکات دیکھ دیکھ کر ہی دل میں ہنس رہا تھا کہ یہ کیا کر رہا ہے۔یہی میرا اور اُن کا حال تھا۔یہ بھی اُس نابینا کی طرح ہمیشہ سوچتے رہتے کہ اب یہ یوں کر رہا ہوگا ، اب یہ اس طرح جماعت کو ورغلانے کی کوشش کر رہا ہو گا اور مجھے کچھ پتہ ہی نہیں تھا کہ میرے خلاف کیا کچھ ہورہا ہے۔میں سوائے خدا تعالیٰ کی ذات پر تو کل رکھنے کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا اور حالات سے ایسا نا واقف تھا کہ سمجھتا تھا کوئی اور بچہ ہے جس کا یہ ذکر ہو رہا ہے۔مگر باوجود اس کے کہ یہ لوگ اُس وقت بڑا رسوخ رکھتے تھے اور جماعت پر ان کا خاص طور پر اثر تھا ، اللہ تعالیٰ نے اُن کے تمام پراپیگنڈہ کو بے اثر ثابت کیا اور مجھے اُس نے فتح اور کامرانی عطا کی۔