انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 381 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 381

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۸۱ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں ہیں لیکن اگر کوئی شخص زیادہ عربی نہ جانتا ہو تو اُسے کم سے کم اتنی عربی تو ضرور آنی چاہئے کہ قرآن کریم کے ترجمہ کو وہ سمجھ سکے۔میں نے ۱۹۴۲ء کے اجتماع کے موقع پر سوال کیا تھا کہ کتنے خدام ہیں جنہیں قرآن کریم کا سارا ترجمہ آتا ہے؟ اُس وقت سات آٹھ سو میں سے قادیان کے خدام میں سے ۱۵۲ اور بیرونی خدام میں سے ۳۲ کھڑے ہوئے تھے سے اب میں دو سال کے بعد پھر یہی سوال کرتا ہوں۔میرے اس سوال کے مہمان مخاطب نہیں بلکہ صرف خدام اور اطفال مخاطب ہیں۔جو خدام اور اطفال اس وقت پہرے پر یا کسی اور ڈیوٹی پر مقرر ہیں وہ بیٹھ جائیں تا کہ تعداد شمار کرنے میں کوئی غلطی نہ ہو۔(حضور کے اس ارشاد پر سب بیٹھ گئے تو حضور نے فرمایا۔) قادیان کے خدام الاحمدیہ یا اطفال الاحمدیہ کے وہ ممبر جو قرآن کریم کا سارا ترجمہ پڑھ چکے ہیں کھڑے ہو جا ئیں۔(حضور کے اس ارشاد پر ۱۸۸ دوست کھڑے ہوئے۔حضور نے فرمایا۔) بیرونی خدام کو شامل کر کے ساری تعداد ایک ہزار کے قریب ہے۔پس اس کے معنی یہ ہوئے کہ قادیان کے خدام میں سے قریباً اکیس فی صدی نوجوان قرآن کا ترجمہ جانتے ہیں۔آب جو دوست باہر سے بطور نمائندہ آئے ہوئے ہیں اور جن کی تعداد ایک سو ہے ان میں سے جنہوں نے سارا قرآن ترجمہ سے پڑھا ہوا ہے وہ کھڑے ہو جائیں۔( ۲۳ دوست کھڑے ہوئے فرمایا۔) یہ تعداد قادیان والوں سے بھی زیادہ رہی ہے۔صرف اتنا فرق ہے کہ قادیان والوں میں ۲۷۰ کے قریب اطفال بھی ہیں۔یہ تعداد بھی نہایت افسوسناک ہے۔قرآن شریف ہی تو وہ چیز ہے جس پر ہمارے دین کی بنیاد ہے اگر ہمارے چنیدہ نو جوانوں میں سے بھی صرف ۲۰ فیصدی قرآن جانتے ہوں اور ۸۰ فیصدی قرآن نہ جانتے ہوں تو اس کے معنی یہ بنتے ہیں کہ اگر ہم ساروں کو شامل کر لیں تو غالباً چار پانچ فیصدی نوجوان ایسے نکلیں گے جو قرآن کو جانتے ہوں گے اور پچانوے فیصدی ایسے نو جوان نکلیں گے جو قرآن کا ترجمہ نہیں جانتے ہوں گے۔تم خود ہی سوچ لو جس قوم کے صرف