انوارالعلوم (جلد 17) — Page 382
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۸۲ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں چار پانچ فیصدی نوجوان قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہوں اور ۹۵ فیصدی نہ جانتے ہوں کیا اُس کی کامیابی کی کوئی بھی صورت ہو سکتی ہے؟ ہم اپنی قوت واہمہ کو کتنا ہی وسیع کر لیں اور اس و ہم کو شک بلکہ خیال فاسدہ کی حد تک لے جائیں تب بھی جس قوم کے پچانوے فیصدی افراد قرآن نہ جانتے ہوں اور صرف ۵ فیصدی قرآن کا ترجمہ جانتے ہوں اُس کی ترقی اور کامیابی کی کوئی صورت انسانی واہمہ اور خیال میں بھی نہیں آ سکتی۔میں نے بار ہا توجہ دلائی ہے کہ جب تک قرآن کریم سے ہر چھوٹے بڑے کو واقف نہیں کیا جاسکتا اُس وقت تک ہمیں اپنی کامیابی کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے اور اگر ہم رکھتے ہیں تو ہم ایک ایسا نقطہ نگاہ اپنے سامنے رکھتے ہیں جو عقلمندوں کا نہیں بلکہ مجنونوں اور پاگلوں کا ہوتا ہے۔آج میں اس امر کی طرف جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں اور نو جوانوں کو خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ انہیں قرآن کریم کا ترجمہ سیکھنے کی جلد سے جلد کوشش کرنی چاہئے۔میں نے اعلان کیا تھا کہ جو انجمنیں قرآن کریم کا ترجمہ پڑھنے کی خواہش کریں گی اور وہ اپنی اس خواہش سے ہمیں اطلاع دیں گی اُن کو مرکز کی طرف سے قرآن کریم پڑھانے والے بھجوا دیئے جائیں گے مگر تجربہ سے یہ طریق کامیاب ثابت نہیں ہوا اس لئے اب میں یہ ہدایت دیتا ہوں کہ ہر سال مرکز کی طرف سے باہر سے آنے والے خدام کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا انتظام کیا جائے اور ہر جماعت کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنا ایک ایک نمائندہ یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے۔یہاں اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھانے کا باقاعدہ انتظام کیا جائے گا اور اس کے بعد اُن کو اِس امر کا ذمہ وار قرار دیا جائے گا کہ وہ باہر اپنی اپنی جماعتوں میں قرآن کریم کا درس جاری کریں اور جن کو قرآن کریم کا ترجمہ نہیں آتا اُن کو قرآن کریم کا ترجمہ پڑھائیں یہاں تک کہ ہماری جماعت میں کوئی ایک فرد بھی ایسا نہ رہے نہ بچہ، نہ جوان ، نہ بوڑھا جسے قرآن کریم کا ترجمہ نہ آتا ہو۔پس آج میں یہ نئی ہدایت دیتا ہوں کہ ہر خدام الاحمدیہ کی جماعت میں سے ایک ایک نمائندہ قرآن کریم کے اس درس میں شامل ہونے کے لئے بلو یا جائے تاکہ وہ اور لوگوں کو اپنی جماعت میں تعلیم دے سکیں۔میں ابھی یہ نہیں کہتا کہ جبرا ہر جماعت میں سے ایک ایک نمائندہ بُلوایا جائے مگر میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ مرکز کو