انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 380 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 380

انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۸۰ خدام الاحمدیہ کیلئے تین اہم باتیں ضروری ہے کہ انہیں اسلام کی مکمل واقفیت ہو اور ان کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اسلام کو پیش کرنے کا صحیح طریق معلوم ہو کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ ہم نے جو کچھ کہنا ہے وہ سب کا سب اسلام میں بیان ہو چکا ہے۔اگر خدام الاحمدیہ اسلام کے مفہوم اور اس کی تعلیم کو اچھی طرح سمجھ لیں تو ان کے لئے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں رہ سکتی کیونکہ اسلام حاوی ہے تمام اعلیٰ تعلیموں پر۔اور جو شخص اسلام کی تعلیم سے مکمل طور پر آگاہ ہوا سے یہ بتانے کی ضرورت نہیں رہتی کہ اُس نے دنیا سے کیا کہنا ہے۔پس اصل چیز اسلام ہی ہے اگر ہم اس کا نام احمدیت رکھتے ہیں تو اس لئے نہیں کہ احمدیت، اسلام کے علاوہ کوئی اور چیز ہے بلکہ اسلام کا نام ہم احمدیت اس لئے رکھتے ہیں کہ لوگوں نے اسلام کو ایک غلط رنگ دے دیا تھا اور ضروری تھا کہ اسلام کے غلط مفہوم کو واضح کرنے اور اسلام کی حقیقت کو روشن کرنے کیلئے کوئی امتیازی نشان قائم کیا جاتا اور وہ امتیازی نشان احمدیت کے نام کے ذریعہ قائم کیا گیا ہے ورنہ اسلام کا ایک شوشہ بھی ایسا نہیں جسے کوئی شخص بدل سکے بلکہ ایک شوشہ تو کیا ایک زبر اور ایک زیر بھی ایسی نہیں جو تبدیل کی جا سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو کچھ فرمایا وہ سب کا سب خدا کے کلام اور رسول کریم ﷺ کے کلام سے ماخوذ ہے بلکہ نہ صرف آپ نے جو کچھ کہا وہ قرآن کریم اور حدیث سے ماخوذ ہے بلکہ آپ نے وہی کچھ کہا جو قرآن کریم میں موجود ہے اور وہی کچھ جو حدیث میں موجود ہے۔بلکہ حق یہ ہے کہ اگر قرآن اور حدیث میں بیان کردہ اسلامی تعلیم سے الگ ہو کر ایک شوشہ بھی بیان کیا جائے بلکہ ایک زبر اور ایک زیر کا بھی اضافہ کیا جائے تو وہ یقیناً کفر ہو گا ، الحاد ہو گا اور اُس کی اشاعت سے دنیا میں علم نہیں پھیلے گا بلکہ جہالت اور بے دینی میں ترقی ہو گی۔پس ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم الله قرآنی تعلیم کو سمجھیں اور اس کو اپنے دلوں اور دماغوں میں پوری مضبوطی سے قائم کریں۔میں نے کہا تھا کہ ہر احمدی نوجوان کا یہ فرض ہے کہ وہ قرآن کریم کا ترجمہ جانتا ہو۔اصل میں تو یہ ہر احمدی نوجوان کا فرض ہے کہ وہ عربی جانتا ہو لیکن کم سے کم اتنا تو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ قرآن کریم میں کیا لکھا ہے اور خدا ہم سے کن باتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔عربی جاننے سے یہ سہولت حاصل ہو جاتی ہے کہ قرآن کریم کا ترجمہ اور اس کا مفہوم سمجھنے کی منزلیں جلد طے ہو جاتی