انوارالعلوم (جلد 17) — Page 349
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۴۹ میری مریم والی ہے اور یہ خیال تو اور بھی بعید از قیاس تھا کہ کبھی وہ وقت بھی آئے گا کہ میں پھر اُس کو اُٹھا کر نیچے لے جاؤں گا مگر گول کمرہ کی طرف نہیں بلکہ قبر کی لحد کی طرف۔اس خیال سے نہیں کہ گل پھر اس کا چہرہ دیکھوں گا بلکہ اس یقین کے ساتھ کے قبر کے اس کنارہ پر پھر اس کی شکل کو جسمانی آنکھوں سے دیکھنا یا اس سے بات کرنا میرے نصیب میں نہ ہوگا۔۱۹۰۷ء سے ۱۹۱۷ ء تک کا عرصہ عزیز مبارک احمد فوت ہو گیا اور ڈاکٹر صاحب کی رخصت ختم ہو گئی۔وہ بھی واپس اپنی ملازمت پر رعیہ ضلع سیالکوٹ چلے گئے۔سید ولی اللہ شاہ صاحب اور ڈاکٹر سید حبیب اللہ شاہ صاحب اُس وقت سکول میں پڑھا کرتے تھے دونوں میرے دوست تھے مگر ڈاکٹر حبیب عام دوستوں سے زیادہ تھے۔ہم یکجان دو قالب تھے مگر اُس وقت کبھی وہم بھی نہ آیا تھا کہ ان کی بہن پھر کبھی ہمارے گھر میں آئے گی۔اُن کی دوستی خود اُن کی وجہ سے تھی اس کا باعث یہ نہ تھا کہ اُن کی ایک بہن ہمارے ایک بھائی سے چند دن کے لئے بیاہی گئی تھی۔دن کے بعد دن اور سالوں کے بعد سال گزر گئے اور مریم کا نام بھی ہمارے دماغوں سے مٹ گیا۔مگر حضرت خلیفہ امسیح اول کی وفات کے بعد ایک دن شاید ۱۹۱۷ ء یا ۱۹۱۸ء تھا کہ میں امتہ الحی مرحومہ کے گھر میں بیت الخلاء سے نکل کر کمرہ کی طرف آ رہا تھا راستہ میں ایک چھوٹا سا صحن تھا اُس کے ایک طرف لکڑی کی دیوار تھی میں نے دیکھا ایک دبلی پتلی سفید کپڑوں میں ملبوس لڑکی مجھے دیکھ کر اُس لکڑی کی دیوار سے چمٹ گئی اور اپنا سارا لباس سمٹا لیا۔میں نے کمرہ میں جا کرامتہ الحی مرحومہ سے پوچھا امتہ الحی ! یہ لڑ کی باہر کون کھڑی ہے۔انہوں نے کہا آپ نے پہچانا نہیں ، ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم ہے۔میں نے کہا اُس نے تو پردہ کیا تھا اور اگر سامنے بھی ہوتی تو میں اُسے کب پہچان سکتا تھا۔۱۹۰۷ ء کے بعد اس طرح مریم دوبارہ میرے ذہن میں آئی۔سیدہ اُمم طاہر سے نکاح آب میں نے دریافت کرنا شروع کیا کہ کیا مریم کی شادی کی طاہر سے نکاح بھی کہیں تجویز ہے؟ جس کا جواب مجھے یہ ملا کہ ہم سادات ہیں ، ہمارے ہاں بیوہ کا نکاح نہیں ہوتا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں کسی جگہ شادی ہوگئی تو کر دیں گے ورنہ لڑکی اسی طرح بیٹھی رہے گی میرے لئے یہ سخت صدمہ کی بات