انوارالعلوم (جلد 17) — Page 348
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۴۸ میری مریم اَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّطْنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔هُوَ النَّاصِرُ میری مریم إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رُجِعُوْنَ ! بلانے والا ہے اُسی ނ پیارا اے دل تو جاں فدا کر قم فرمود و حضرت خلیلة اسم الثانی) رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِيناً وَبِمُحَمَّدٍ رَسُوْلًا وَبِالْقُرْآن حَكَماً۔سیدہ اُمم طاہر کا بچپن چھتیں سال کے قریب ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب کی لڑکی مریم بیگم کا نکاح ہمارے مرحوم بھائی مبارک احمد سے پڑھوایا۔اس نکاح کے پڑھوانے کا موجب غالباً بعض خوا میں تھیں جن کو ظاہری شکل میں پورا کرنے سے ان کے انداری پہلو کو بدلنا مقصود تھا مگر اللہ تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور مبارک احمد مرحوم اللہ تعالیٰ سے جاملا اور وہ لڑکی جو ابھی شادی اور بیاہ کی حقیقت سے نا واقف تھی بیوہ کہلانے لگی۔اُس وقت مریم کی عمر دو اڑھائی سال کی تھی اور وہ اُن کی ہمشیرہ زادی عزیزہ نصیرہ اکٹھی گول کمرہ سے جس میں اُس وقت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم ٹھہرے ہوئے تھے کھیلنے کے لئے اوپر آ جایا کرتی تھیں اور کبھی کبھی گھبرا کر جب منہ بسورنے لگتیں تو میں کبھی مریم کو اُٹھا کر کبھی نصیرہ کو اُٹھا کر گول کمرہ میں چھوڑ آیا کرتا تھا اُس وقت مجھے یہ خیال بھی نہ آ سکتا تھا کہ وہ بچی جسے میں اُٹھا کر نیچے لے جایا کرتا ہوں کبھی میری بیوی بننے