انوارالعلوم (جلد 17) — Page 350
انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۵ میری مریم تھی۔میں نے بہت کوشش کی کہ مریم کا نکاح کسی اور جگہ ہو جائے مگر ناکامی کے سوا کچھ نتیجہ نہ نکلا۔آخر میں نے مختلف ذرائع سے اپنے بھائیوں سے تحریک کی کہ اس طرح اس کی عمر ضائع نہ ہونی چاہئے ان میں سے کوئی مریم سے نکاح کر لے لیکن اس کا جواب بھی نفی میں ملا۔تب میں نے اس وجہ سے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فعل کسی جان کی تباہی کا موجب نہ ہونا چاہئے اور اس وجہ سے کہ ان کے دو بھائیوں سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور سید محمود اللہ شاہ صاحب سے مجھے بہت محبت تھی میں نے فیصلہ کر لیا کہ میں مریم سے خود نکاح کرلوں گا اور ۱۹۲۰ء میں اس کی بابت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب مرحوم سے میں نے درخواست کر دی جو اُنہوں نے منظور کر لی اور ے فروری ۱۹۲۱ء کو ہمارا نکاح مسجد مبارک کے قدیم حصہ میں ہو گیا۔وہ نکاح کیا تھا ایک ماتم کدہ تھا۔دعاؤں میں سب کی چیخیں نکل رہی تھیں اور گریہ وزاری سے سب کے رُخسار تر تھے۔آخر ۲۱ فروری ۱۹۲۱ء کو نہایت سادگی سے جا کر میں مریم کو اپنے گھر لے آیا اور حضرت اُم المومنین کے گھر میں ان کو اُتارا جنہوں نے ایک کمرہ ان کو دے دیا جس میں ان کی باری میں ہم رہتے تھے۔وہی کمرہ جس میں اب مریم صدیقہ رہتی ہیں وہاں پانچ سال تک وہ رہیں اور وہیں اِن کے ہاں پہلا بچہ پیدا ہوا۔یعنی طاہر احمد ( اول ) مرحوم اور اس کے چلے میں وہ سخت بیمار ہوئیں جو بیماری بڑھتے بڑھتے ایک دن ان کی موت کا موجب ثابت ہوئی۔شادی کے ابتدائی ایام شادی کے ابتدائی ایام میں د وخت دیلی بیگی ہوتی تھیں اور وہ پتلی شکل میں بعض ایسے نقص تھے جو میری طبیعت پر گراں گزرا کرتے تھے۔اسی طرح وہ ٹھیٹھ پنجابی بولتی تھیں اور مجھے گھر میں کسی کا پنجابی بولنا ز ہر معلوم ہوتا ہے۔ان کی طبیعت ہنسوڑ تھی وہ مجھے چڑانے کے لئے جان کر بھی اُردو بولتے ہوئے پنجابی الفاظ اس میں ملا دیا کرتی تھیں۔اسی طرح چونکہ باپ ماں کی وہ بہت لاڈلی تھیں ذراسی بات میں بھی اگر نا پسند ہوتی تو اُس پر چڑ کر رونے لگ جاتی تھیں اور جب رونے لگتیں تو آنسوؤں کا ایک سیلاب آ جاتا تھا، دو دو دن تک متوار روتی رہتی تھیں۔شاید یہ مرض ہسٹیریا کے سبب سے تھا۔جب میں انگلستان گیا ہوں تو امتہ الحی مرحومہ اور ان کی باہمی لڑائی کی وجہ سے میں ان سے کچھ خفا تھا مگر مجھے واپس آکر معلوم ہوا کہ غلطی زیادہ امتہ الحی مرحومہ کی تھی۔اس خفگی کی وجہ